Khawaja Reazuddin Atash

خواجہ ریاض الدین عطش

خواجہ ریاض الدین عطش کی غزل

    ہر گوشۂ عالم میں زمانے کی صدا ہوں

    ہر گوشۂ عالم میں زمانے کی صدا ہوں میں وقت پہ چلتا ہوا نقش کف پا ہوں اے دشت تخیل تری خاموش نوا ہوں میں نقش حقیقت ہوں مگر خواب نما ہوں اک عالم دنیا ہے مری ذات کے اندر میں آگ بھی مٹی بھی ہوں پانی ہوں ہوا ہوں دو لخت ہوا ہوں میں تری جلوہ گری سے ایسی ہے چکاچوند کہ سائے سے جدا ہوں دن ...

    مزید پڑھیے

    پتہ رقیب کا دے جام جم تو کیا ہوگا

    پتہ رقیب کا دے جام جم تو کیا ہوگا وہ پھر اٹھائیں گے جھوٹی قسم تو کیا ہوگا ادا سمجھتا رہوں گا ترے تغافل کو طویل ہو گئی شام الم تو کیا ہوگا جفا کی دھوپ میں گزری ہے زندگی ساری وفا کے نام پہ جھیلیں گے غم تو کیا ہوگا ابھی تو چرخ ستم ہم پہ ڈھائے جاتا ہے زمیں نہ ہوگی جو زیر قدم تو کیا ...

    مزید پڑھیے

    زندگانی وہ معتبر ہوگی

    زندگانی وہ معتبر ہوگی جو محبت کے نام پر ہوگی ہوگی پھولوں کی منزلت معلوم عمر کانٹوں میں جب بسر ہوگی دل رہے گا تو خون دل ہوگا اشک ہوں گے تو چشم تر ہوگی جو تجھے دیکھ کے پلٹ آئے وہ نظر بھی کوئی نظر ہوگی رات تو دن کی اک علامت ہے رات ہوگی تو اک سحر ہوگی رات بھر ہم جلیں گے فرقت ...

    مزید پڑھیے

    حسرت پائمال میں گم ہیں

    حسرت پائمال میں گم ہیں ہم فریب خیال میں گم ہیں بجھتی یادوں کے سرمئی سائے شام رنج و ملال میں گم ہیں ہم حصار وجود کے رہ رو گردش لازول میں گم ہیں شمع انسانیت کے نور فروغ ظلمت انفعال میں گم ہیں وہ ابد تک عروج کا پرتو ہم ازل سے زوال میں گم ہیں اب بھنور میں پھنسا ہے ماہی گیر مچھلیاں ...

    مزید پڑھیے

    ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا

    ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا اب کے ساون بھی کڑی دھوپ میں جلتا گزرا یا سر راہ کبھی ٹوٹ کے تارے برسے یا کسی چاند کا بجھتا ہوا سایہ گزرا ہم جلاتے رہے ہر گام محبت کے چراغ وہ رہ و رسم کی ہر شمع بجھاتا گزرا ہم گزر جاتے ہیں ہر دور سے ایسے جیسے ایک آنسو کسی چہرے سے ڈھلکتا ...

    مزید پڑھیے