ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا
ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا
اب کے ساون بھی کڑی دھوپ میں جلتا گزرا
یا سر راہ کبھی ٹوٹ کے تارے برسے
یا کسی چاند کا بجھتا ہوا سایہ گزرا
ہم جلاتے رہے ہر گام محبت کے چراغ
وہ رہ و رسم کی ہر شمع بجھاتا گزرا
ہم گزر جاتے ہیں ہر دور سے ایسے جیسے
ایک آنسو کسی چہرے سے ڈھلکتا گزرا
سوچتا ہوں کہ بدلنے پڑے کتنے چہرے
زندگی گزری ہے اپنی کہ تماشا گزرا
جادہ عمر عطشؔ پاؤں کی گردش ٹھہری
دشت سمٹا نہ کبھی دامن صحرا گزرا