Khalish Kalkatvi

خلش کلکتوی

خلش کلکتوی کی غزل

    بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے

    بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے اک تمنا کا ہوا خون تو کیا غم اے دوست دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طفیل ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے زندگی ایک حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہر گلی کوچے میں بکھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد

    سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد قرار دل کو نہیں تھا قرار دل کو نہیں ترے وصال سے پہلے ترے وصال کے ...

    مزید پڑھیے

    کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا

    کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا یزید عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا یہ کون رہتا ہے سائے کی طرح ساتھ مرے رہ طلب میں تو میں ہوں رواں دواں ...

    مزید پڑھیے

    ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری

    ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری ثبات غم کو نہیں عارضی خوشی میری اسی کو اب مری ہر بات زہر لگتی ہے کبھی پسند نہ تھی جس کو خامشی میری تری نظر کا سہارا بڑا سہارا تھا جہاں میں کر نہ سکا کوئی ہمسری میری کبھی گناہ کبھی حسرت گناہ کا غم تمام کرب مسلسل ہے زندگی میری میں دل کا حال اسی ...

    مزید پڑھیے