Khalish Kalkatvi

خلش کلکتوی

خلش کلکتوی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے

    بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے اک تمنا کا ہوا خون تو کیا غم اے دوست دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طفیل ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے زندگی ایک حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہر گلی کوچے میں بکھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد

    سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد قرار دل کو نہیں تھا قرار دل کو نہیں ترے وصال سے پہلے ترے وصال کے ...

    مزید پڑھیے

    کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا

    کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا یزید عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا یہ کون رہتا ہے سائے کی طرح ساتھ مرے رہ طلب میں تو میں ہوں رواں دواں ...

    مزید پڑھیے

    ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری

    ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری ثبات غم کو نہیں عارضی خوشی میری اسی کو اب مری ہر بات زہر لگتی ہے کبھی پسند نہ تھی جس کو خامشی میری تری نظر کا سہارا بڑا سہارا تھا جہاں میں کر نہ سکا کوئی ہمسری میری کبھی گناہ کبھی حسرت گناہ کا غم تمام کرب مسلسل ہے زندگی میری میں دل کا حال اسی ...

    مزید پڑھیے