بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے
بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے اک تمنا کا ہوا خون تو کیا غم اے دوست دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طفیل ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے زندگی ایک حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہر گلی کوچے میں بکھرے ہیں ...