Khaliq aashiq	Abdullah

خالق عبداللہ

خالق عبداللہ کی نظم

    بستیاں زندہ رہیں گی

    تم زمیں پر ایک بھی سایہ اگر دیکھو تو سمجھو آسمانوں کے تلے یہ بستیاں زندہ رہیں گی وہ جو ماتم کر رہے ہیں رو رہے ہیں اپنے بچوں کو نہیں آتا یقیں ان کو وہ جیتے ہیں اب تک تتلیاں ان کے تعاقب میں گئی ہیں وہ جو ماتم کر رہے ہیں اپنے بچوں کا انہیں کہہ دو پہاڑوں سے ندا آتی نہیں تو یہ نہ سوچیں ...

    مزید پڑھیے

    روانگی

    جہاں پہ میں ہوں بس ایک کہرا زدہ فضا ہے جدھر بھی دیکھو سفید چادر ٹنگی ہوئی ہے نہیں ہے کوئی زمین ایسی کہ جس پہ میں اپنے پاؤں رکھوں بلند و بالا پہاڑوں سے ہزاروں پتھر لڑھک رہے ہیں اور آندھیاں سیٹیاں بجاتی گزر رہی ہیں قدیم بھوری پہاڑیوں سے وہ کارواں بھی تو ٹوٹ آیا تلاش میں جو نہ جانے ...

    مزید پڑھیے