Khaliq aashiq	Abdullah

خالق عبداللہ

خالق عبداللہ کے تمام مواد

2 نظم (Nazm)

    بستیاں زندہ رہیں گی

    تم زمیں پر ایک بھی سایہ اگر دیکھو تو سمجھو آسمانوں کے تلے یہ بستیاں زندہ رہیں گی وہ جو ماتم کر رہے ہیں رو رہے ہیں اپنے بچوں کو نہیں آتا یقیں ان کو وہ جیتے ہیں اب تک تتلیاں ان کے تعاقب میں گئی ہیں وہ جو ماتم کر رہے ہیں اپنے بچوں کا انہیں کہہ دو پہاڑوں سے ندا آتی نہیں تو یہ نہ سوچیں ...

    مزید پڑھیے

    روانگی

    جہاں پہ میں ہوں بس ایک کہرا زدہ فضا ہے جدھر بھی دیکھو سفید چادر ٹنگی ہوئی ہے نہیں ہے کوئی زمین ایسی کہ جس پہ میں اپنے پاؤں رکھوں بلند و بالا پہاڑوں سے ہزاروں پتھر لڑھک رہے ہیں اور آندھیاں سیٹیاں بجاتی گزر رہی ہیں قدیم بھوری پہاڑیوں سے وہ کارواں بھی تو ٹوٹ آیا تلاش میں جو نہ جانے ...

    مزید پڑھیے