خالد یوسف کی غزل

    چراغ ضبط تمنا سے جل نہ جائیں کہیں

    چراغ ضبط تمنا سے جل نہ جائیں کہیں گلوں کے اشک ستاروں میں ڈھل نہ جائیں کہیں اسی لیے ہیں گراں پا کہ ہم جو تیز چلے دیار یار سے آگے نکل نہ جائیں کہیں بچھا رہے ہیں مری راہ میں جو انگارے وہ ہاتھ پھول ہیں ڈرتا ہوں جل نہ جائیں کہیں قدم قدم پہ بچھاؤ بساط کیف و نشاط شراب اور پلاؤ سنبھل نہ ...

    مزید پڑھیے

    بنے جو شمس و قمر ننگ آسماں نکلے

    بنے جو شمس و قمر ننگ آسماں نکلے جنہیں چراغ سمجھتے رہے دھواں نکلے ذرا سی دیر میں اک رند ہو گیا مومن یقیں اسے بھی نہ تھا ہم بھی خوش گماں نکلے نہ ہم میں جوہر غالبؔ نہ ان میں شان ظفرؔ تو کس قصور میں کوئی قصیدہ خواں نکلے کسی کی چاہ میں جب جاں بھی ہم گنوا آئے تو لطف یار کے قصے کہاں ...

    مزید پڑھیے

    ہر شعر کو گلاب کیا کیا غلط کیا

    ہر شعر کو گلاب کیا کیا غلط کیا ہاں تیرا انتخاب کیا کیا غلط کیا روندا نہیں کبھی کسی جگنو کو زیر پا ذرے کو آفتاب کیا کیا غلط کیا لب پر ہر ایک شخص کے تھی مصلحت کی مہر ہم نے ہی کچھ خطاب کیا کیا غلط کیا جو ماورائے ذہن فقیہاں تھا وہ گناہ اس کا بھی ارتکاب کیا کیا غلط کیا کب تک پسیں گے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2