چراغ ضبط تمنا سے جل نہ جائیں کہیں
چراغ ضبط تمنا سے جل نہ جائیں کہیں گلوں کے اشک ستاروں میں ڈھل نہ جائیں کہیں اسی لیے ہیں گراں پا کہ ہم جو تیز چلے دیار یار سے آگے نکل نہ جائیں کہیں بچھا رہے ہیں مری راہ میں جو انگارے وہ ہاتھ پھول ہیں ڈرتا ہوں جل نہ جائیں کہیں قدم قدم پہ بچھاؤ بساط کیف و نشاط شراب اور پلاؤ سنبھل نہ ...