خالد یوسف کی غزل

    وجہ رسوائی ہے اب لائق محفل ہونا

    وجہ رسوائی ہے اب لائق محفل ہونا ان کی فہرست تبرا میں نہ شامل ہونا فن کا دعویٰ ہے تو کچھ جرأت اظہار بھی ہو زیب دیتا نہیں فن کار کو بزدل ہونا مدح گل چیں ہو جہاں مسلک مرغان چمن ہم کو منظور نہیں فخر عنادل ہونا اپنی پہچان ہے وہ قریۂ تاریک جہاں منصفوں کو بھی میسر نہیں عادل ہونا میرے ...

    مزید پڑھیے

    بہت مشکل ہے دریا پار جانا

    بہت مشکل ہے دریا پار جانا مگر ہے کفر ہمت ہار جانا بہت ممکن ہے قسمت منتظر ہو تو پھر خوابوں میں بھی بیدار جانا نہ جانا حلقۂ ظلمت میں چاہے پڑے مقتل پس دیوار جانا یہ کہہ کر وہ چلا سوئے شہادت خدا کے پاس کیا بیمار جانا امیر شہر کا حسن تدبر رقیبوں کو بھی اپنا یار جانا مقدر تھا جو ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہو گئے شہید یہ اعزاز تو ملا

    ہم ہو گئے شہید یہ اعزاز تو ملا اہل جنوں کو نکتۂ آغاز تو ملا ہم کو جو سن رہا ہے وہ مخبر سہی مگر محفل میں کوئی گوش بر آواز تو ملا وہ کاروان شب کا ہوا آخری چراغ لو شیخ کو یہ منصب ممتاز تو ملا ہم اولیا نہیں تھے جو دل پھیرتے مگر اس کو بھی گفتگو کا اک انداز تو ملا ہم خود ہی بے سرے تھے ...

    مزید پڑھیے

    عہد خورشید میں ذروں کی حقیقت کیا ہے

    عہد خورشید میں ذروں کی حقیقت کیا ہے گرد تو آپ ہی چھٹ جائے گی عجلت کیا ہے بات کیجے جو اجالوں کی تو وہ کہتے ہیں وصل کی رات اجالے کی ضرورت کیا ہے چند بے زور شجر چند کھلائے ہوئے پھول اور گلچیں کی گلستاں پہ عنایت کیا ہے کوچۂ زہر فروشاں میں نکل آیا ہوں کوچۂ یار میں سقراط کی قیمت کیا ...

    مزید پڑھیے

    چشم و گیسو کا کوئی ذکر نہ رخسار کی بات

    چشم و گیسو کا کوئی ذکر نہ رخسار کی بات بیٹھ کر کیجئے ان سے در و دیوار کی بات یہ ادائیں یہ اشارے یہ حسیں قول و قرار کتنے آداب کے پردے میں ہے انکار کی بات رات بھر جس کی تمنا میں جلے ہیں ہم لوگ وہ سحر شیخ کی نظروں میں ہے کفار کی بات بزم اغیار اگر ہو تو بچھے جاتے ہیں اور کرتے ہیں وہ ہم ...

    مزید پڑھیے

    عقاب دل ہو تو سارا جہان ایک سا ہے

    عقاب دل ہو تو سارا جہان ایک سا ہے زمین کوئی بھی ہو آسمان ایک سا ہے کوئی ٹھکانہ وطن کا بدل نہیں ہوتا مہاجروں کے لئے ہر مکان ایک سا ہے تعینات علاقہ برادری فرقے سپاہ جہل کہیں ہو نشان ایک سا ہے وہ کوئی صاحب جاگیر ہو کہ ملا ہو مگر ہمارے لیے قہرمان ایک سا ہے نگاہ مسند اعلیٰ پہ روز ...

    مزید پڑھیے

    گرچہ ہر سمت مسائل کے ہیں انبار بہت

    گرچہ ہر سمت مسائل کے ہیں انبار بہت اپنی تقریر پہ ہے شیخ کو اصرار بہت ہم نے مانا کہ ترے شہر میں سب اچھا ہے کوئی عیسیٰ ہو تو مل جائیں گے بیمار بہت نا سپاسی کا ثمر در بدری ہے یارو یاد آئے گی یہ ٹوٹی ہوئی دیوار بہت آج پھر قافلۂ حق کا خدا حافظ ہے شہر والوں میں نہیں جرأت انکار بہت ہم ...

    مزید پڑھیے

    دیکھیے اس کو تو ہر بات گل تر کی طرح

    دیکھیے اس کو تو ہر بات گل تر کی طرح بات کیجے تو وہی شخص ہے پتھر کی طرح عقل حیراں ہے کن الفاظ میں تعریف کروں حسن اور وہ بھی چھلکتے ہوئے ساغر کی طرح برق گفتار سہی شعلہ وہ تلوار سہی ہم مگر ظرف بھی رکھتے ہیں سمندر کی طرح آزماؤ گے تو ہم جاں سے گزر جائیں گے کاغذی شیر نہیں ہیں کسی افسر ...

    مزید پڑھیے

    وفا کے نام پہ رکھی ہیں تہمتیں کیا کیا

    وفا کے نام پہ رکھی ہیں تہمتیں کیا کیا بگاڑ دی ہیں زمانے نے صورتیں کیا کیا ہمیں پہ دوش ہے ان کی قضا نمازوں کا جناب شیخ نے ڈھونڈیں وضاحتیں کیا کیا بڑے خلوص سے اک شہر گل اجاڑ لیا ہوئی ہیں اہل نظر سے حماقتیں کیا کیا فریب سیم و جواہر ہوئے ہیں نام و نمود خیال یار سے الجھی ہیں ظلمتیں ...

    مزید پڑھیے

    ہر ایک شخص کو اک طنطنے میں رکھتی ہے

    ہر ایک شخص کو اک طنطنے میں رکھتی ہے وہ بھانت بھانت کی مچھلی گھڑے میں رکھتی ہے تمام شہر کے دانشوروں کو وہ ظالم اسیر زلف کیے آسرے میں رکھتی ہے وہ گالیاں بھی اگر دے تو شعر و نغمہ لگے زباں میں لوچ عجب سر گلے میں رکھتی ہے اسے شراب طہوریٰ کا تذکرہ بھی گناہ یہ بات اور ہے سب کو نشے میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2