Khalid Mahmood Amar

خالد محمود امر

خالد محمود امر کی غزل

    خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا

    خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا وہ بھی میرے جیسا ہوگا زخم جگر سے جو ٹپکا ہے اس کی آنکھ سے بہتا ہوگا سوچوں میں آئے چپکے سے ننگے پاؤں چلتا ہوگا در پہ دستک دینے والا اس کی یاد کا جھونکا ہوگا مہک اٹھا ہے میرا بدن بھی خوشبو میں وہ رہتا ہوگا سطح آب پہ اک چہرہ ہے لہروں میں وہ رہتا ہوگا اب تو ...

    مزید پڑھیے

    کوئی درپیش جب سفر آیا

    کوئی درپیش جب سفر آیا تیرا چہرہ بھی بام پر آیا لگ کے چلمن سے جھانکنا باہر یاد وہ ادھ کھلا سا در آیا میرے صیاد کو بھی حیرت ہے کیوں نہ میں بھی لہو میں تر آیا دیکھ سارے جہاں کو ٹھکرا کر تیرا دیوانہ تیرے گھر آیا تیرے در سے شفا ملے سب کو اک عمرؔ ہی شکستہ تر آیا

    مزید پڑھیے

    درد دل لا دوا نہیں ہوتا

    درد دل لا دوا نہیں ہوتا ہاں مگر حوصلہ نہیں ہوتا غم خوشی رنگ زندگی کے ہیں رات بن دن نیا نہیں ہوتا روشنی سے چھپاتے ہیں چہرے جب اندھیرا ذرا نہیں ہوتا چند یادیں ہیں کچھ جواں سوچیں کون تنہا سدا نہیں ہوتا ٹھہرے پانی تو گدلے ہوتے ہیں کیوں کہوں وہ جدا نہیں ہوتا رہتے ہیں ایک گھر میں ...

    مزید پڑھیے