Khalid Mahmood Amar

خالد محمود امر

خالد محمود امر کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا

    خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا وہ بھی میرے جیسا ہوگا زخم جگر سے جو ٹپکا ہے اس کی آنکھ سے بہتا ہوگا سوچوں میں آئے چپکے سے ننگے پاؤں چلتا ہوگا در پہ دستک دینے والا اس کی یاد کا جھونکا ہوگا مہک اٹھا ہے میرا بدن بھی خوشبو میں وہ رہتا ہوگا سطح آب پہ اک چہرہ ہے لہروں میں وہ رہتا ہوگا اب تو ...

    مزید پڑھیے

    کوئی درپیش جب سفر آیا

    کوئی درپیش جب سفر آیا تیرا چہرہ بھی بام پر آیا لگ کے چلمن سے جھانکنا باہر یاد وہ ادھ کھلا سا در آیا میرے صیاد کو بھی حیرت ہے کیوں نہ میں بھی لہو میں تر آیا دیکھ سارے جہاں کو ٹھکرا کر تیرا دیوانہ تیرے گھر آیا تیرے در سے شفا ملے سب کو اک عمرؔ ہی شکستہ تر آیا

    مزید پڑھیے

    درد دل لا دوا نہیں ہوتا

    درد دل لا دوا نہیں ہوتا ہاں مگر حوصلہ نہیں ہوتا غم خوشی رنگ زندگی کے ہیں رات بن دن نیا نہیں ہوتا روشنی سے چھپاتے ہیں چہرے جب اندھیرا ذرا نہیں ہوتا چند یادیں ہیں کچھ جواں سوچیں کون تنہا سدا نہیں ہوتا ٹھہرے پانی تو گدلے ہوتے ہیں کیوں کہوں وہ جدا نہیں ہوتا رہتے ہیں ایک گھر میں ...

    مزید پڑھیے