خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا
خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا وہ بھی میرے جیسا ہوگا زخم جگر سے جو ٹپکا ہے اس کی آنکھ سے بہتا ہوگا سوچوں میں آئے چپکے سے ننگے پاؤں چلتا ہوگا در پہ دستک دینے والا اس کی یاد کا جھونکا ہوگا مہک اٹھا ہے میرا بدن بھی خوشبو میں وہ رہتا ہوگا سطح آب پہ اک چہرہ ہے لہروں میں وہ رہتا ہوگا اب تو ...