Khalid Mahboob

خالد محبوب

  • 1982

خالد محبوب کی غزل

    خوش ہیں بچے ناشتہ موجود ہے

    خوش ہیں بچے ناشتہ موجود ہے گھر میں کھانا رات کا موجود ہے تم چلے جاؤ گے تو دیکھیں گے ہم کیا نہیں ہے اور کیا موجود ہے بات میری تم سمجھ سکتے نہیں گھر میں کیا کوئی بڑا موجود ہے دل دھڑکتا ہے تمہارے نام پر آج بھی یہ سلسلہ موجود ہے واسطہ دوں گا نہ اپنے پیار کا جانا ہے تو راستہ موجود ...

    مزید پڑھیے

    تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا

    تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا میں گھوم پھر کے اپنے ٹھکانے پہ آ گیا دربان سے الجھنے کا یہ فائدہ ہوا باہر وہ میرے شور مچانے پہ آ گیا تعریف اس کے کام کی مہنگی پڑی مجھے وہ شخص اپنے دام بڑھانے پہ آ گیا تصویر اس کی گھر میں لگانے کی دیر تھی مالک مکان مجھ کو اٹھانے پہ آ گیا پھر ...

    مزید پڑھیے

    ٹھوکر سے دوسروں کو بچانے کا شکریہ

    ٹھوکر سے دوسروں کو بچانے کا شکریہ پتھر کو راستے سے ہٹانے کا شکریہ اب یہ بتائیں آپ کی میں کیا مدد کروں فرضی کہانی مجھ کو سنانے کا شکریہ میرے بہت سے کام ادھورے نہیں رہے اے دوست اتنے روز نہ آنے کا شکریہ تنہا نہیں رہا ترے جانے کے بعد میں کچھ اجنبی غموں سے ملانے کا شکریہ اتنی خوشی ...

    مزید پڑھیے

    چھوڑ جائیں گے قافلے والے

    چھوڑ جائیں گے قافلے والے ہم تو ہیں پیڑ راستے والے خواب پہلی اذان پر ٹوٹا ہم تھے دریا میں کودنے والے دیکھ آیا ہوا ہے آنکھوں میں زہر کانوں میں گھولنے والے آپ سے اپنا اک تعلق ہے ہم نہیں لوگ واسطے والے اک زمانہ تھا عید آنے پر ہم مناتے تھے روٹھنے والے مجھ کو تسلیم کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی

    رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی مگر وہ چیز مہنگی ہو گئی تھی ہم اتنی گرم جوشی سے ملے تھے ہماری چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی تمہارے بعد جتنا روئے تھے ہم طبیعت اتنی اچھی ہو گئی تھی سمجھ کر ہم دوائی پی گئے تھے تمہاری بات کڑوی ہو گئی تھی پلٹ آنا ہی بنتا تھا وہاں سے ہمارے ساتھ جتنی ہو گئی ...

    مزید پڑھیے