تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا

تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا
میں گھوم پھر کے اپنے ٹھکانے پہ آ گیا


دربان سے الجھنے کا یہ فائدہ ہوا
باہر وہ میرے شور مچانے پہ آ گیا


تعریف اس کے کام کی مہنگی پڑی مجھے
وہ شخص اپنے دام بڑھانے پہ آ گیا


تصویر اس کی گھر میں لگانے کی دیر تھی
مالک مکان مجھ کو اٹھانے پہ آ گیا


پھر یوں ہوا کہ پیاس ہی محبوبؔ مر گئی
جس وقت میں کنویں کے دہانے پہ آ گیا