خالد خواجہ کی غزل

    چل مان لیا صاحب کردار نہیں ہوں

    چل مان لیا صاحب کردار نہیں ہوں پر تیری طرح حاضر دربار نہیں ہوں دشمن ہے مسافر تو اسے صاف بتا دو دیوار ہوں میں سایۂ دیوار نہیں ہوں اطراف میں ہر چیز کا ادراک ہے مجھ کو خوابوں میں گھرا دیدۂ بے دار نہیں ہوں خاموش ہی رہنا ہے مرے واسطے بہتر میں آپ کا پیرایۂ اظہار نہیں ہوں اب تو ہدف ...

    مزید پڑھیے

    جھوٹ ہونٹوں پہ بلا خوف و خطر آیا ہے

    جھوٹ ہونٹوں پہ بلا خوف و خطر آیا ہے مدتوں شہر میں رہ کر یہ ہنر آیا ہے سنگ بازوں کو خدا جانے خبر کیسے ہوئی ایک دیوانہ سر راہ گزر آیا ہے جب بھی ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح مرنے لگا کام اسی وقت مرا عزم سفر آیا ہے میں بھی چوکس تھا ہر اک وار سے پہلے اس کے جس طرف سے بھی وہ آیا ہے نظر آیا ...

    مزید پڑھیے

    جدھر بھی جاؤں یہی سلسلہ نکلتا ہے

    جدھر بھی جاؤں یہی سلسلہ نکلتا ہے تمہارے گھر کی طرف راستہ نکلتا ہے میں ایک عمر سے ان دائروں کا قیدی ہوں قدم جہاں بھی رکھوں دائرہ نکلتا ہے میں آزمانے چلا ہوں جہاں پہ جنس خلوص نظر نظر سے وہاں زہر سا نکلتا ہے جو شخص جان سے پیارا ہو شیخ صاحب کو قسم خدا کی وہی دہریا نکلتا ہے تمہارے ...

    مزید پڑھیے