جدھر بھی جاؤں یہی سلسلہ نکلتا ہے
جدھر بھی جاؤں یہی سلسلہ نکلتا ہے
تمہارے گھر کی طرف راستہ نکلتا ہے
میں ایک عمر سے ان دائروں کا قیدی ہوں
قدم جہاں بھی رکھوں دائرہ نکلتا ہے
میں آزمانے چلا ہوں جہاں پہ جنس خلوص
نظر نظر سے وہاں زہر سا نکلتا ہے
جو شخص جان سے پیارا ہو شیخ صاحب کو
قسم خدا کی وہی دہریا نکلتا ہے
تمہارے شہر میں کیا کر رہے ہیں میرے لوگ
گلی گلی سے مرا آشنا نکلتا ہے
وہی تو شہر ہے خالدؔ نقاب پوشوں کا
ہر آستیں سے جہاں آئنہ نکلتا ہے