Khalid Iqbal Yasir

خالد اقبال یاسر

خالد اقبال یاسر کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    داستاں کے رخ نما ابواب چوری ہو گئے

    داستاں کے رخ نما ابواب چوری ہو گئے لٹ گئے اوقاف سب اعراب چوری ہو گئے بے غرض جاں نذر کرنے کی روایت پٹ چکی عشق کے دربار کے آداب چوری ہو گئے تھے گرہ میں کچھ نتیجے کچھ ادھورے تجربے علتیں غارت ہوئیں اسباب چوری ہو گئے بھاپ بن کر اڑ گئے یا ہو گئے گم ریت میں بند باندھے رہ گئے دریاب چوری ...

    مزید پڑھیے

    دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی

    دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی سلطاں نے مرے فن کی قدر اور طرح کی دیکھا جو زمانے نے مجھے ترچھی نظر سے میں نے بھی زمانے پہ نظر اور طرح کی ملتا ہی نہ تھا کوئی مجھے ایک طرح کا میں نے بھی تو عمر اپنی بسر اور طرح کی شاہاں نے بہت راہ پہ لانا مجھے چاہا میری بھی طبیعت تھی مگر اور طرح ...

    مزید پڑھیے

    جو ربط میری تری نبض ڈوبنے تک ہے

    جو ربط میری تری نبض ڈوبنے تک ہے مبالغہ بھی کریں تو نباہنے تک ہے مری ہی آرزوئے دل کا شعبدہ ہے تو ترا وجود فقط سحر ٹوٹنے تک ہے ارادے کتنی ہی عمروں کے باندھ رکھے ہیں مگر نگاہ کی حد اپنے سامنے تک ہے ترے مزاج کی تبدیلیوں سے واقف ہوں یہ مہربانی مرے ہونٹ کھولنے تک ہے گرہ کشا کبھی سر ...

    مزید پڑھیے

    اک دائرے کی شکل میں کھینچا ہوا حصار

    اک دائرے کی شکل میں کھینچا ہوا حصار یلغار سے کچھ اور بھی بدلا ہوا حصار اک شہر خواب تھا کہ جہاں قلعہ بند تھے اعدا کی یورشوں سے توانا ہوا حصار چاہے رسد کے راستے مسدود تھے بہت جتنا بڑھا محاصرہ پختہ ہوا حصار آباد بستیاں تھیں فصیلوں کے سائے میں آپس میں بستیوں کو ملاتا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی پہلے تو کوئی بعد میں عیار ہوا

    کوئی پہلے تو کوئی بعد میں عیار ہوا اپنی خواہش پہ جو وابستۂ دربار ہوا اک تہی جیب کی زاری کوئی سنتا کیسے رائج ایسے ہی نہیں سکۂ دینار ہوا بات سلطان سے کیا تخلیئے میں اس کی ہوئی مصلحت کیش بتانے پہ نہ تیار ہوا مخبری میری ہوئی چشم زدن میں کیسی قصر دل ہی میں سارا تھا کہ مسمار ہوا راہ ...

    مزید پڑھیے

تمام