Khalid Ghani

خالد غنی

خالد غنی کی نظم

    نیلی قندیل

    ہمارا رجحان یقیناً حرامی پن تک جا چکا ہے ہمارے سروں پر خوف مسلط ہو رہا ہے کیا ہم جنون کی حد جاگتے ہوئے جذبات نہیں بک رہے واقعی ہماری بے داری ایک سوچی سمجھی سازش ہے ہم نے جنون کی حد تک عشق کیا ہم نے جنون کی حد تک مباشرت کا لطف لیا اب ہمیں ہمارا ہی کل جھنجھوڑ رہا ہے اسے کیسے الگ ...

    مزید پڑھیے

    آبلوں کی کرچیں

    بہت دنوں کے بعد اس شہر میں بھٹکا ہوا بوندھ بوندھ بنتا ہوا مضبوطی سے پکڑے ہوئے مضمحل زخم آلودہ آبلوں کو چلا رہا تھا اپنے کاندھوں پر لادے اپنے ننگے سر کو مگر راستے کے وحشی ہنگاموں نے مجھے توڑ ڈالا بھاگنے کے سارے راستے بند خون کا دباؤ بڑھنے لگا تب میرے ہاتھ سے وہ گٹھری گر پڑی جسے ...

    مزید پڑھیے

    لہو کا ذائقہ

    سب جھوٹ بولتے ہیں میں جب ماں کے پیٹ میں تھا تب بھی جھوٹ نہیں بولتا تھا میں نے ماں کے پیٹ میں تازہ تازہ گرم سرخ خون پیا تھا پیدائش کے بعد سفید گاڑھا ٹھنڈا خون مجھے ملا جب سے میں مسلسل خون پی رہا ہوں میں نے بچپن سے لڑکپن تک لڑکپن سے جوانی تک بارہا اس خون کا ذائقہ چکھا ہے میں اس کے ...

    مزید پڑھیے