Khalid Ghani

خالد غنی

خالد غنی کی غزل

    مرے سلوک کی قیمت یہیں ادا کر دے

    مرے سلوک کی قیمت یہیں ادا کر دے مجھے گناہ کی لذت سے آشنا کر دے عبور کر نہ سکا بے حسی کی چٹانیں مرے ضمیر کو مردانگی عطا کر دے میں مصلحت کے تقاضوں کو کر سکوں پورا مری انا کو مرے پیٹ سے جدا کر دے تمام خواہشیں میری لباس نوچ چکیں تو اب لہو کا مزیدار ذائقہ کر دے میں جذب و بست کی منزل ...

    مزید پڑھیے

    مرے اندر جو لہرانے لگی ہے

    مرے اندر جو لہرانے لگی ہے مجھی کو مجھ سے الجھانے لگی ہے نہ تو پورس نہ شاید میں سکندر لڑائی پر بھی لڑ جانے لگی ہے کسی گرتے ہوئے پتے سے پوچھو درختوں کو ہوا کھانے لگی ہے سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہے ندی میں باڑھ سی آنے لگی ہے وہ جس کو ذہن سے جھٹکا دیا تھا وہ خواہش دل میں گھر پانے لگی ...

    مزید پڑھیے

    رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا

    رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا شیلف پر رکھی کتابیں سوچتی ہیں رات دن گھر سے دفتر کا سفر کتنا سہانا ہو گیا کس قدر شہرت ہے ان ہنستے ہوئے لمحات میں آنکھ سے گزرا ہر اک منظر پرانا ہو گیا اب مری تنہائی بھی مجھ سے بغاوت کر گئی کل یہاں جو کچھ ہوا ...

    مزید پڑھیے