Khaleel Rampuri

خلیل رامپوری

  • - 1993

خلیل رامپوری کی غزل

    آنکھوں کے آئنوں میں توانائی آئے گی

    آنکھوں کے آئنوں میں توانائی آئے گی دیکھے گا سبز کھیت تو بینائی آئے گی پائے گا خوشبوؤں سے زمینوں کے بھید بھی اک روز تیرے کام شناسائی آئے گی پیڑوں کی چھاؤں چھوڑ کسی آب جو پہ بیٹھ تجھ میں نہیں تو عکس میں رعنائی آئے گی دنیا کی سیر کر کے نکھر جائے گا خیال تازہ ہوا لگے گی تو دانائی ...

    مزید پڑھیے

    کیا بتلاؤں کیسے دن میں کاٹ رہا ہوں

    کیا بتلاؤں کیسے دن میں کاٹ رہا ہوں موتی ہوں اور رستے میں بے کار پڑا ہوں لمبی لمبی کاروں والوں سے اچھا ہوں روکھی سوکھی جو ملتی ہے کھا لیتا ہوں تنہائی میں اکثر میں سوچا کرتا ہوں سورج چاند ستارے کیا ہیں اور میں کیا ہوں بادل پربت دریا چشمے جنگل صحرا کیوں بھاتے ہیں میں ان سب کا کیا ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کرنے آیا تھا سورج

    روشنی کرنے آیا تھا سورج سائے دیکھے تو ڈھل گیا سورج پردا جب بھی ہٹایا کھڑکی سے میرے کمرے میں آ گیا سورج آ گئے ہم چھتوں سے کمروں میں اور ہمیں ڈھونڈھتا پھرا سورج چاندنی بھی اداس لگتی ہے مجھ کو ویران کر گیا سورج رات نے بادبان کھول دیا اپنا سامان لے گیا سورج سارا دن کان بجتے رہتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2