Khaleel Rampuri

خلیل رامپوری

  • - 1993

خلیل رامپوری کی غزل

    میں جیسا بھی ہوں تیرے سامنے ہوں

    میں جیسا بھی ہوں تیرے سامنے ہوں جو دنیا ہے وہ دے دے سامنے ہوں تری دنیا ہے تو ہر چیز میں ہے جہاں بھی ہوں میں تیرے سامنے ہوں ابھی دن ہے بتا کیا چاہتا ہے ابھی زندہ ہوں تیرے سامنے ہوں فلک کی جگمگاتی چھت ہے سر پر میں حیراں ہوں کہ کس کے سامنے ہوں ہوا چلتی ہے یا گاتا ہے کوئی وہ کون ...

    مزید پڑھیے

    ہرا بھرا تھا کبھی جھاڑ سا بدن میرا

    ہرا بھرا تھا کبھی جھاڑ سا بدن میرا کہ آئنوں میں جھلکتا تھا بانکپن میرا چراغ لے کے مجھے ڈھونڈنے نکلتا تھا مرے بغیر نہ رہتا تھا ہم سخن میرا سیاہیوں کے بھنور سے نکل کے آیا ہوں دھلا رہی ہے اجالوں سے منہ کرن میرا سیاہ پھول کھلا دھوپ کی منڈیروں پر ہوا میں ٹانگ دیا کس نے پیرہن ...

    مزید پڑھیے

    رات کھڑی ہے سر پہ سنہرے دیوں کا تھال لیے

    رات کھڑی ہے سر پہ سنہرے دیوں کا تھال لیے اے من تو بھی عمر بتا دے نقش خیال لیے لمحے یہ بے رنگ پتنگے کب آتے ہیں ہاتھ سارا سارا دن پھرتا ہے سورج جال لیے پھلجھڑیاں سی چھوٹ رہی ہیں شام کے دامن میں کون کھڑا ہے نارنگی سا چہرہ لال لیے آج سمجھ میں آیا اپنی آنکھوں کا مفہوم ہر انسان ہے ...

    مزید پڑھیے

    کب تلک شادابئ فکر و نظر کام آئے گی

    کب تلک شادابئ فکر و نظر کام آئے گی گیلے کپڑے سے ہوا پانی اڑا لے جائے گی بھاگتے گھوڑے کی راسیں کھینچنے سے فائدہ ڈوبتے سورج کی کیا رفتار کم ہو جائے گی ذہن پر پھیلا رکھے ہیں جھینگروں نے دائرے آج جو بھی بات سوچوں گا مجھے الجھائے گی تک رہے ہیں کس کی جانب نجم خیمے گاڑ کر دھوپ نکلے گی ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے

    یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے روپ سارا ہے میرا مٹی سے سبزہ کہتا ہے لوٹے جاؤ مجھے دل کشادہ ہے میرا مٹی سے میں ستارا نہیں ہوں سورج ہوں گہرا رشتہ ہے میرا مٹی سے میں تو خود رو درخت ہوں لیکن پیٹ بھرتا ہے میرا مٹی سے مطمئن ہوں کہ فصل اچھی ہے سینہ ٹھنڈا ہے میرا مٹی سے ہر حویلی میں دیپ ...

    مزید پڑھیے

    روشنی لے کر اندھیری رات میں نکلا نہ کر

    روشنی لے کر اندھیری رات میں نکلا نہ کر رات پردے کے لیے ہے خود کو بے پردا نہ کر دہر کا پھیلاؤ بھی نقطہ نظر آنے لگے شعر کہتا ہے تو کہہ اتنا مگر سوچا نہ کر ایک دن تو بھی کسی تارے سے ٹکرا جائے گا دوست میرے رات کی گلیوں میں یوں گھوما نہ کر چاند بھی اترا تھا پچھلی شب اسی تالاب میں کیوں ...

    مزید پڑھیے

    نام اس اللہ کے بندے کا بھی رسوائی میں ہے

    نام اس اللہ کے بندے کا بھی رسوائی میں ہے جو سمندر کی طرح سے اپنی گہرائی میں ہے شاخ سے پتہ بھی اڑتا ہے پرندے کی طرح زندگی کی کوئی چنگاری تمنائی میں ہے دھوپ کا دریا امڈ آتا ہے جب چڑھتا ہے دن کوئی ایسی لہر کیا اس کی بھی انگڑائی میں ہے جب ہواؤں میں اڑے گا سب پتہ لگ جائے گا جھیل نیلے ...

    مزید پڑھیے

    جو اس طرح لیے پھرتا ہے جاں ہتھیلی پر (ردیف .. ا)

    جو اس طرح لیے پھرتا ہے جاں ہتھیلی پر وہ دیکھنا کبھی جاں سے گزر ہی جائے گا خیال ہے کوئی اڑتا ہوا پرند نہیں جہاں بھی جائے گا بے بال و پر ہی جائے گا یہ آسماں جو ازل سے سوا رہے مجھ پر یہ بوجھ بھی کہیں سر سے اتر ہی جائے گا میں اس کا چاہنے والا ہوں کوئی غیر نہیں وہ میرے سامنے آ کر نکھر ...

    مزید پڑھیے

    نقش وہ آنکھ میں اترا تھا کہ جاتا ہی نہ تھا

    نقش وہ آنکھ میں اترا تھا کہ جاتا ہی نہ تھا میں نے اس دھوپ کو ڈھلتے کہیں دیکھا ہی نہ تھا روح کی پیاس بجھائے نہ بجھے گی کسی ڈھنگ مجھ کو اس دشت کی پہنائی میں اگنا ہی نہ تھا پہلے اس گھر کی ہر اک کھڑکی کھلی رہتی تھی یوں ملا کرتے تھے جیسے کوئی پردا ہی نہ تھا اب جو انسان ہواؤں میں اڑا ...

    مزید پڑھیے

    میں نے تو اک بات کہی تھی بات کو پھیلایا ہے کتنا

    میں نے تو اک بات کہی تھی بات کو پھیلایا ہے کتنا اب میں سمجھا ہوں دنیا نے مجھ کو پہچانا ہے کتنا جانے کس نے تھپڑ مارا کالے بادل کے چہرے پر میں نے دیکھا ہے بادل کو غصے میں برسا ہے کتنا لاٹھی پانی میں ڈالوں تو واپس آتی ہے پانی پر دریا زور آور ہے کتنا میرا سرمایہ ہے کتنا کل میں نے کچھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2