Karimuddin Sanat Moradabadi

کریم الدین صنعت مرادآبادی

کریم الدین صنعت مرادآبادی کی غزل

    وصل کی شب میں بھی ہم باہم دگر رویا کئے

    وصل کی شب میں بھی ہم باہم دگر رویا کئے میں جدائی سے وہ میرے حال پر رویا کئے اس نے زانو غیر کا اپنے رکھا جب زیر سر اپنے زانو پر ہم اپنا رکھ کے سر رویا کئے اس نے آنسو غیر کے پونچھے جب اپنے ہاتھ سے ہم نشیں یہ ماجرا ہم دیکھ کر رویا کئے ہو گیا مشکل مری مژگاں سے مژگاں کا ملاپ حائل اک ...

    مزید پڑھیے