Ghalib Ayaz

غالب ایاز

غالب ایاز کی غزل

    ہوا کرے گا ہر اک لفظ مشکبار اپنا

    ہوا کرے گا ہر اک لفظ مشکبار اپنا ابھی سکوں سے کیے جاؤ انتظار اپنا اٹھا لیا ہے حلف گرچہ جاں نثاری کا مجھے سنبھال کہ ہوتا ہوں بار بار اپنا اداس آنکھ کو ہے انتظار فصل مراد کبھی تو موسم جاں ہوگا سازگار اپنا تمہارے در سے اٹھائے گئے ملال نہیں وہاں تو چھوڑ کے آئے ہیں ہم غبار ...

    مزید پڑھیے

    کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

    کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا ہزار خواب مری ملکیت میں شامل تھے میں تیرے عشق میں سرمایہ دار بن کے رہا تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا اسی کے نام کروں میں تمام عہد خیال درون جاں جو مرے سوگوار بن کے رہا اگرچہ ...

    مزید پڑھیے

    حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو

    حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو اب یہ دل بے قرار ہو کہ نہ ہو مرگ انبوہ دیکھ آتے ہیں آنکھ پھر اشکبار ہو کہ نہ ہو کرب پیہم سے ہو گیا پتھر اب یہ سینہ فگار ہو کہ نہ ہو پھر یہی رت ہو عین ممکن ہے پر ترا انتظار ہو کہ نہ ہو شاخ زیتون کے امیں ہیں ہم شہر میں انتشار ہو کہ نہ ہو شعر میرے سنبھال کر ...

    مزید پڑھیے

    بس تیرے لیے اداس آنکھیں

    بس تیرے لیے اداس آنکھیں اف مصلحت نا شناس آنکھیں بے نور ہوئی ہیں دھیرے دھیرے آئیں نہیں مجھ کو راس آنکھیں آخر کو گیا وہ کاش رکتا کرتی رہیں التماس آنکھیں خوابیدہ حقیقتوں کی ماری پامال اور بدحواس آنکھیں درپیش جنوں کا مرحلہ اور فاقہ ہے بدن تو پیاس آنکھیں

    مزید پڑھیے

    جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی

    جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی تری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہی جہان شعر میں میری کئی ریاستیں ہیں میں اپنے شہر میں گمنام و ناشنیدہ سہی بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی انہی بجھی ہوئی آنکھوں میں خواب اتریں گے یقیں نہ چھوڑ یہ بیمار و شب گزیدہ ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

    ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے منافقت کی سبھی تہمتیں مجھے دے دے مرے طفیل رفیقوں میں تیرا نام تو آئے اسے اداس نہ کر دے یہ میری سست روی میں اب کے سست چلوں وہ سبک خرام تو آئے غم حیات غم روزگار بے وطنی سکون سے جو ڈھلے کاش ایسی شام تو آئے

    مزید پڑھیے

    درد جب دسترس چارہ گراں سے نکلا

    درد جب دسترس چارہ گراں سے نکلا حرف انکار محبت کی زباں سے نکلا زندگانی میں سبھی رنگ تھے محرومی کے تجھ کو دیکھا تو میں احساس زیاں سے نکلا سب بہ آسانی مرے خواب کو پڑھ لیتے تھے پھر تو میں انجمن دل زدگاں سے نکلا جذبۂ عشق نے جب ایڑیاں اپنی رگڑیں خاک اڑاتا ہوا اک دشت وہاں سے ...

    مزید پڑھیے

    جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے

    جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے مری حیات سفر کا مآل چاہتی ہے میں وسعتوں کا طلب گار اپنے عشق میں ہوں وہ میری ذات میں اک یرغمال چاہتی ہے ہمیں خبر ہے کہ اس مہرباں کی چارہ گری ہمارے زخموں کا کب اندمال چاہتی ہے تمہارے بعد مری آنکھ ضد پہ آ گئی ہے وہی جمال وہی خد و خال چاہتی ہے ہم اس کے ...

    مزید پڑھیے