Devendra Satyarthi

دیوندر ستیارتھی

منٹو کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں شامل، سنیاسی کا روپ دھار کر ملک بھر کے لوک گیت جمع کرنے کے لیے معروف۔

A contemporary of Manto, Satyarthi roamed around to collect the folk songs of India.

دیوندر ستیارتھی کی رباعی

    قبروں کے بیچوں بیچ

    دس لاکھ بھوک موتیں، پندرہ لاکھ، انیس لاکھ اور اس ہفتے کل جمع چوبیس لاکھ۔ اور ابھی تک اس بھیانک دُربھکشا کا زور بڑھ رہا تھا۔۔۔ گیتا کے دماغ میں اس وقت ایک لوری کے سُوَر گھوم رہے تھے، چھیلے گھومالو پاڑا جڑا لو، ورگی ایلو دیشے، بلبلے تے دھان کھے چھے خزانہ دیب کشو؟ یعنی بچہ سو گیا، ...

    مزید پڑھیے

    نئے دھان سے پہلے

    یہ کنگلوں کی قطار تھی۔ ہو بہ ہو کمان کی طرح۔ ایک ساتھ کہیں سات آدمی کھڑے تھے تو کہیں دس، عورتیں اور بچے اور مرد، جوان اور بوڑھے۔۔۔ سبھی ایک ترازو میں تل رہے تھے۔ سبھی بھوکے تھے۔ ننھے بچے سوکھی چھاتیوں کو چچور رہے تھے۔ بڑی عمر کے بچے قطار سے نکل کر لنگر کے دروازے پر پہنچنے کے لیے ...

    مزید پڑھیے

    پریوں کی باتیں

    میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں سقراط کا ایک خیال چکّر لگا رہا تھا۔۔۔ قدرت نے ہمیں دو کان دیے ہیں اور دو آنکھیں مگر زبان صرف ایک تاکہ ہم بہت زیادہ سنیں اور دیکھیں اور بولیں کم، بہت کم! میں نے کہا، ’’آج کوئی افسانہ سناؤ، دوست!‘‘ وہ بولا، تو آو، آج میں تمھیں ...

    مزید پڑھیے

    سلام لاہور

    (ایک) بھرتری ہری کہہ گئے۔۔۔ کالو نہ یا تا و یمئیویاتا! وقت نہیں گزرتا، ہم گزر جاتے ہیں۔ بس ایک نغمہ ’بس ایک المیہ‘ بس ایک جستجو۔ سر سے ڈھلکا ہوا آنچل اور سر ڈھکنے کی کوشش میں کھلتا ہوا سینہ۔ کوئی بھی سر ہو۔۔۔ کومل رِکھب یا کومل گندھار۔ عشقے دی گلی وچوں کوئی کوئی ...

    مزید پڑھیے

    لاوارث

    کُوچ بہار کے پلیٹ فارم پر گاڑی ایک چیخ کے ساتھ رُک گئی اور پری توش کھڑکی کے راستے جھٹ ایک ڈبے میں گُھس گیا۔ نیچے سے سانیال اور بوس سب سامان اُسے تھماتے چلے گئے اور بار بار تاکید کرتے رہے کہ وہ ایک پوری سیٹ پر قبضہ جما لے۔ سانیال ہنس ہنس کر کہہ رہا تھا، ’’پری توش ہمارا بھائی ہے۔ ...

    مزید پڑھیے

    بٹائی کے دنوں میں

    پچھم کی طرف سے آنے والی ہوا کے نیچے گیہوں کے پودے سر ہلارہے تھے۔ کنکُوت کے لیے ریاست کا سرپنچ کھیت کی مینڈ پر کھڑا تھا۔ دیوان صاحب کا آدمی مونچھوں کو تاو دے رہا تھا۔ فصل کا جائزہ لیتے ہوئے سر پنچ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ جو کام پہلے آدھ گھنٹہ مانگتا تھا۔ اب ...

    مزید پڑھیے

    ستلج پھر بپھرا

    اِن جنونی لوگوں کی باتوں پر اُنھیں غصّہ آرہا تھا۔ کبھی کوئی بڑا بوڑھا یوں بول اُٹھتا، جیسے پھٹا ہوا ڈھول دھپ دھپائے، کبھی کوئی ایسی آواز اُبھرتی جیسے گیلا پٹاخہ پھٹ جائے۔ ستلج اُن کا منہ چڑا رہا تھا۔ لیکن بڑے بوڑھے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے کھڑے تھے۔ بچّوں کے لیے یہ ہلڑ مچانے کا ...

    مزید پڑھیے

    شبنما

    بتّیاں جل چکی ہیں۔ چکلے میں رات ذرا پہلے ہی اتر آتی ہے۔ شبنما ایک چالیس بیالیس برس کی عورت اپنے گال رنگ کر، ہونٹ رنگ کر کُرسی پر آبیٹھی ہے۔ دھیرے دھیرے اُس کے ہونٹ ہلتے ہیں، کچھ نہ کچھ گنگنا رہی ہوگی۔ بیاہ میں کیا دھرا تھا؟ یہاں تو روز بیاہ ہوتا ہے نئے آدمی سے، گھڑی گھڑی۔ وہ ایک ...

    مزید پڑھیے

    بھینٹ

    چاند کی نکھری ہوئی چاندنی میں صاف و شفاّف ندی کے کنارے اپنی تمام روایتوں اور عظمتوں کا حامل پیگوڈا کھڑا تھا۔ اُس کی مخروطی چھت کسی ہادئ برحق کی آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی اُنگلی کی طرح یہ دکھاتی ہوئی معلوم ہوتی تھی کہ یہ ہے صداقت کی راہ اور یہی ہے گیان کی منزل۔ بُدھ مندر کے سائے ...

    مزید پڑھیے

    لال دھرتی

    کوئی رنگ مظلوم نگاہوں کی طرح خاموش اور فریادی ہوتا ہے۔ کوئی رنگ خوبصورتی کی طرح کچھ کہتا ہوا اور داد طلب دکھائی دیتا ہے۔ کوئی رنگ مچلتا ہوا ہمیں کسی ضدّی بچّے کی یاد دِلا جاتا ہے اور کسی کو دیکھ کر غنودگی سی چھا جاتی ہے۔۔۔ لاری کے ڈرائیور نے دریا پار کرتے ہوئے کہا، ’’اب ہم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4