Bashar Nawaz

بشر نواز

ممتاز ترقی پسند شاعر،نقاد،اسکرپٹ رائٹراورنغمہ نگار۔فلم بازار کے گیت' کروگے یاد تو ہر بات یاد آئیگی 'کے لئے مشہور

One of the prominent progressive poets, critic and lyricist Known for writing lyrics ‘karoge yaad to har baat yaad…’ for ‘Bazaar’.

بشر نواز کی غزل

    سارے منظر فسوں تماشا ہیں

    سارے منظر فسوں تماشا ہیں کل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیں کوئی یادوں سے جوڑ لے ہم کو ہم بھی اک ٹوٹتا سا رشتہ ہیں ناؤ جیسے بھنور میں چکرائے اب بھی آنکھوں میں خواب زندہ ہیں بے تحاشہ ہواؤں سے پوچھیں راستے کس سفر کا نوحہ ہیں دھند اوڑھے نگاہیں کیسی ہیں سانس لیتے ہوئے کھنڈر کیا ہیں

    مزید پڑھیے

    چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے

    چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے غنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئے وہ لوگ جن کی دشت نوردی کی دھوم تھی مدت ہوئی کہ سنگ در یار ہو گئے صدیوں کا غم سمٹ کے دلوں میں اتر گیا ہم لوگ زندگی کے گنہ گار ہو گئے زلفوں کی طرح پہلے بھی بادل حسین تھے ڈولی پون تو اور طرحدار ہو گئے

    مزید پڑھیے

    ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

    ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا میں کہاں جاؤں کہ پہچان سکے کوئی مجھے اجنبی مان کے چلتا ہے مجھے گھر میرا جیسے دشمن ہی نہیں کوئی مرا اپنے سوا لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر ...

    مزید پڑھیے

    گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

    گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں بکھرا نہیں زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں آئینے کی ...

    مزید پڑھیے

    ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا

    ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا رنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سوا ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل ...

    مزید پڑھیے

    کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو

    کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو اس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ زاد سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو سورج ہی جب نہ چمکے تو پگھلے گی برف کیا بن جائیں وہ بھی موم مگر دل دکھا تو ہو ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا مل بیٹھیں کس کے ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

    جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا ...

    مزید پڑھیے

    چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

    چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو کس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھو مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے کچھ دور چلو آؤ ذرا تم بھی تو دیکھو کس طرح کناروں کو ہے سینے سے لگائے ٹھہرے ہوئے پانی کی ادا تم بھی تو دیکھو یادوں کے سمن زار سے آئی ہوئی خوشبو دامن میں چھپا لائی ہے کیا تم ...

    مزید پڑھیے

    بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے

    بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے قرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیے جہاں سازوں کو فرزانہ ہم اہل دل کو دیوانہ زمانہ تو بہت کہتا رہا اب آپ بھی کہیے بعنوان دگر پھر ہم سے قائم کر لیا تم نے وہ اک گہرا تعلق جس کو ترک دوستی کہیے سمجھ کر سنگ راہ شوق ٹھکراتا ہوں منزل کو کمال آگہی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2