Bashar Nawaz

بشر نواز

ممتاز ترقی پسند شاعر،نقاد،اسکرپٹ رائٹراورنغمہ نگار۔فلم بازار کے گیت' کروگے یاد تو ہر بات یاد آئیگی 'کے لئے مشہور

One of the prominent progressive poets, critic and lyricist Known for writing lyrics ‘karoge yaad to har baat yaad…’ for ‘Bazaar’.

بشر نواز کے تمام مواد

19 غزل (Ghazal)

    جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں

    جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں پھنس گیا پھر جسم کے گرداب میں تیرا کیا تو تو برس کے کھل گیا میرا سب کچھ بہہ گیا سیلاب میں میری آنکھوں کا بھی حصہ ہے بہت تیرے اس چہرے کی آب و تاب میں تجھ میں اور مجھ میں تعلق ہے وہی ہے جو رشتہ ساز اور مضراب میں میرا وعدہ ہے کہ ساری زندگی تجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے

    کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے ایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئے پیار کے بندھن خون کے رشتے ٹوٹ گئے خوابوں کی طرح جاگتی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کیا کیا کاروبار ہوئے آپ وہ سیانے رستے کے ہر پتھر کو بت مان لیا ہم وہ پاگل اپنی راہ میں آپ ہی خود دیوار ہوئے اپنی ...

    مزید پڑھیے

    یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں

    یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں جس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میں اے کاش کبھی قید بھی ہوتا مرے فن میں وہ نغمۂ دلکش کہ ہے آوارہ پون میں اٹھ کر تری محفل سے عجب حال ہوا ہے دل اپنا بہلتا ہے نہ بستی میں نہ بن میں اک حسن مجسم کا وہ پیراہن رنگیں ڈھل جائے دھنک جیسے کسی چندر کرن ...

    مزید پڑھیے

    آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی

    آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی ایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھی تھا دل میں درد پہلے بھی لیکن نہ اس قدر ویراں تو تھی حیات مگر اس طرح نہ تھی ہر ایک موڑ مقتل ارمان و آرزو پہلے تو تیری راہ گزر اس طرح نہ تھی جب تک صبا نے چھیڑا نہ تھا نکہت گلاب کوچہ بہ کوچہ محو سفر اس طرح نہ ...

    مزید پڑھیے

    جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

    جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں تحفۂ دوست ہیں جب یہ تو کرم ہی ہوں گے بزم عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور بس یہی ہوگا نا کچھ اور ستم ہی ہوں گے جب بھی برباد وفا کوئی نظر آئے تمہیں غور سے ...

    مزید پڑھیے

تمام

13 نظم (Nazm)

    مجھے جینا نہیں آتا

    میں جیسے درد کا موسم گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا لے کے جس منظر تلک جاؤں سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں میں اپنے دل کا سونا پیار کے موتی ترستی آرزو کے پھول جس در پر سجاتا ہوں وہاں جیسے مکیں ہوتا نہیں کوئی بنا ہوں ایک مدت سے صدائے ...

    مزید پڑھیے

    قرض

    مہر ہونٹوں پہ سماعت پہ بٹھا لیں پہرے اور آنکھوں کو کسی آہنی تابوت میں رکھ دیں کہ ہمیں زندگی کرنے کی قیمت بھی چکانی ہے یہاں

    مزید پڑھیے

    مجھے کہنا ہے

    نہیں میں یوں نہیں کہتا کہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیں نہیں یوں بھی نہیں کہتا کہ ہم جنت کے باسی ہیں سروں پر لاجوردی شامیانے اور پیروں میں نرالے ذائقوں والے پھلوں کے پیڑ شیر و شہد کی نہریں مچلتی ہیں مجھے تو بس یہی کچھ عام سی کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں کہنی ہیں مجھے کہنا ہے اس ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے کٹہرے میں

    سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے اپنے جرم پہ رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو تم نے ہواؤں کے زینے پر پاؤں رکھ کر قوس قزح کے رنگ سمیٹے اور خلاؤں میں اڑتے فرضی تاروں ...

    مزید پڑھیے

    ازل تا ابد

    افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم یہ حد نظر تک نم آلود سی ریت کا نرم قالیں کہ جس پر سمندر کی چنچل جواں بیٹیوں نے کسی نقش پا کو بھی نہ چھوڑا فضا اپنے دامن میں بوجھل خموشی سمیٹے ہے لیکن مچلتی ہوئی مست لہروں کے ہونٹوں پہ نغمہ ہے رقصاں یہ نغمہ سنا تھا مجھے یاد آتا نہیں کب مگر ہاں بس احساس ...

    مزید پڑھیے

تمام