یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب
یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گزر گیا اہل جنوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھ آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب حلقہ بگوش کوئی نہ اب یار ہے یہاں وہ روز و شب کی داد و ستائش کہاں ...