Akhtar Shahjahanpuri

اختر شاہجہانپوری

اختر شاہجہانپوری کی غزل

    یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

    یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گزر گیا اہل جنوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھ آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب حلقہ بگوش کوئی نہ اب یار ہے یہاں وہ روز و شب کی داد و ستائش کہاں ...

    مزید پڑھیے

    اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے

    اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے تو پھر ضروری ہے آ کر یہاں طواف کرے دلوں میں خواہش دیدار ہو تو لازم ہے جو آئنہ بھی میسر ہو اس کو صاف کرے رہوں گا میں تو ہمیشہ قصیدہ خواں اس کا زمیں فلک سے بھلا کیسے اختلاف کرے حصار ذات سے باہر نکلنا ہو جس کو انا کی آہنی دیوار میں شگاف کرے جہاں بھی ...

    مزید پڑھیے

    اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا

    اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا ساحل کی تمنا تھی نظر ہی نہیں آیا روشن ہیں جہاں شمع محبت کی قطاریں وہ کنج کم آثار نظر ہی نہیں آیا میں جھوٹ کو سچائی کے پیکر میں سجاتا کیا کیجیے مجھ کو یہ ہنر ہی نہیں آیا وہ گنبد بے در تھا کہ دیوار انا تھی منظر کوئی باہر کا نظر ہی نہیں آیا اک ایسا ...

    مزید پڑھیے

    دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ

    دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو سونے سونے سے دریچے دے گیا وہ لے گیا میری خودی میری انا بھی اے جبین شوق سجدے دے گیا وہ رنج و غم سہنے کی عادت ہو گئی ہے زندہ رہنے کے سلیقے دے گیا وہ میری ہمت جانتا تھا اس لیے بھی ڈوبنے والے ...

    مزید پڑھیے

    جب مخالف مرا رازداں ہو گیا

    جب مخالف مرا رازداں ہو گیا راز سر بستہ سب پر عیاں ہو گیا مجھ کو احساس شرمندگی ہے بہت قصۂ درد کیسے بیاں ہو گیا کتنی حسرت سے تکتی رہی ہر خوشی اور دامن مرا دھجیاں ہو گیا مسئلہ بن گئی فکر تفہیم کا لفظ کا حسن بھی رائیگاں ہو گیا لوگ یہ سوچ کے ہی پریشان ہیں میں زمیں تھا تو کیوں آسماں ...

    مزید پڑھیے

    راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا

    راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا جب تک دیا ہمارے لہو کا جلا نہ تھا یہ معجزہ ہمارے ہی طرز بیاں کا تھا اس نے وہ سن لیا تھا جو ہم نے کہا نہ تھا جب آشیانے جل گئے تب ہم نوا ہوئے گلشن میں اس سے پہلے کوئی بولتا نہ تھا تو خود ہی قطرہ قطرہ پگھلتا تھا روز و شب شامل ترے زوال میں دست دعا نہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2