Akhtar Shahjahanpuri

اختر شاہجہانپوری

اختر شاہجہانپوری کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے

    جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے وہ آنسو خون میں ڈوبا ہوا ہے فرشتے خوان لے کر آ رہے ہیں صحیفہ طاق میں رکھا ہوا ہے کوئی انہونی شاید ہو گئی پھر غبار کارواں ٹھہرا ہوا ہے کسی کی خواہشیں پابستہ کر کے یہ کب سوچا حرم رسوا ہوا ہے وہ اک لمحہ جو تیرے وصل کا تھا بیاض ہجر پر لکھا ہوا ہے مجھے ...

    مزید پڑھیے

    جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے

    جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے وہ مرے پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے صرف ویرانہ ہی غمگینی کا باعث تو نہیں عہد ماضی کی وہ تصویر بھی ہو سکتی ہے چشم حسرت سے جو ٹپکی ہے لہو کی اک بوند صبح امید کی تنویر بھی ہو سکتی ہے رنج و غم ٹھوکریں مایوسی گھٹن بے زاری میرے خوابوں کی یہ تعبیر بھی ...

    مزید پڑھیے

    جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں

    جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں مری بے چہرگی پر ہنسنے والو تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں تری بالا قدی بدنام ہوگی یہاں کے بام و در نیچے بہت ...

    مزید پڑھیے

    کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں

    کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں بہت کچھ رو چکے ہم تو اداکاری کے موسم میں اتر آؤں گا میں بھی زینۂ ہستی سے یوں اک دن کہ جیسے رنگ رخ اترے ہے ناداری کے موسم میں تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں بجز میرے زمانے کی قبا رنگین ...

    مزید پڑھیے

    جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں

    جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں تجھے منظر بہ منظر دیکھتے ہیں قبائے درد جب سے زیب تن ہے خوشی کو اپنے اندر دیکھتے ہیں چلو امن و اماں ہے میکدے میں وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں کبھی تنہائی نے تنہا نہ چھوڑا تماشہ پھر بھی گھس کر دیکھتے ہیں کرم فرمائی ہے سورج کی یہ بھی اسے اپنے برابر ...

    مزید پڑھیے

تمام