اختر رضا سلیمی کی غزل

    وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر

    وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر فریفتہ ہے کسی پھول چننے والی پر میں ہل چلاتے ہوئے جس کو سوچا کرتا تھا اسی کی گندمی رنگت ہے بالی بالی پر یہ لوگ سیر کو نکلے ہیں سو بہت خوش ہیں میں دل گرفتہ ہوں سبزے کی پائمالی پر اک اور رنگ ملا آ کے سات رنگوں میں شعاع مہر پڑی جب سے تیری بالی ...

    مزید پڑھیے

    بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

    بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے ہر ایک سمت نظر آ رہے ہیں ڈھیر پہ ڈھیر ہر ایک سمت مکاں پر مکان ہوتے ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے

    تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے مرا خیال تھا یہ سلسلہ دیوں تک ہے مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بجھانے لگے نجانے رات ترے مے کشوں کو کیا سوجھی سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے وہ گھر ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں

    ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں تصورات زمان و مکاں بدل جائیں ہمارے بیچ ہمیں ڈھونڈتے پھریں یہ لوگ ہم اپنے آپ سے آگے کہیں نکل جائیں یہ کیا بعید کسی آنے والے لمحے میں ہمارے لفظ بھی تصویر میں بدل جائیں ہم آئے روز نیا خواب دیکھتے ہیں مگر یہ لوگ وہ نہیں جو خواب سے بہل جائیں یہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے

    وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے روز اک خواب دیکھ لیتے تھے اب زمیں بھی جگہ نہیں دیتی ہم کبھی آسماں پہ رہتے تھے آخرش خود تک آن پہنچے ہیں جو تری جستجو میں نکلے تھے خواب گلیوں میں پھر رہے تھے اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے تھے ہم کہیں دور تھے بہت ہی دور اور ترے آس پاس بیٹھے تھے

    مزید پڑھیے

    فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا

    فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا نکل رہا ہے کوئی اشک مسکراتا ہوا پس گمان کئی واہمے جھپٹتے ہوئے سر یقین کوئی خواب لہلہاتا ہوا گزر رہا ہوں کسی جنت جمال سے میں گناہ کرتا ہوا نیکیاں کماتا ہوا بہ سوئے دشت گماں دے رہا ہے اذن سفر کنار خواب ستارہ سا جھلملاتا ہوا

    مزید پڑھیے

    خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے

    خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے ہر اک طرف سے صدا آ رہی تھی یاں کوئی ہے یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے جوار قریۂ گریہ سے آ رہی تھی صدا مجھے یہاں سے نکالے اگر یہاں کوئی ہے تلاش کر رہے ہیں قبر سے چھپانے کو ترے جہان میں ہم سا بھی بے اماں ...

    مزید پڑھیے

    اندیشے مجھے نگل رہے ہیں

    اندیشے مجھے نگل رہے ہیں کیوں درد ہی پھول پھل رہے ہیں دیکھو مری آنکھ بجھ رہی ہے دیکھو مرے خواب جل رہے ہیں اک آگ ہماری منتظر ہے اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں جسموں سے نکل رہے ہیں سائے اور روشنی کو نگل رہے ہیں یہ بات بھی لکھ لے اے مؤرخ ملبے سے قلم نکل رہے ہیں

    مزید پڑھیے

    دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا

    دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم ہماری زد میں ہے اب چرخ نیلگوں اس کا تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں اس کا اب اس سے قطع تعلق میں بہتری ہے مری میں اپنا رہ نہیں سکتا اگر ...

    مزید پڑھیے