Akhtar Rahi

اختر راہی

اختر راہی کی نظم

    گھور اندھیرا

    خون چشیدہ صدیوں کا وہ گھور اندھیرا بکھر گیا جنگ و جدل کا جذبہ جاگا امن کا پرچم اتر گیا نصف صدی ڈھلنے کو ہے وہ رات ڈھلے پھر بھی لہو کا بپھرا دریا جاری ہے معصوموں کے نالوں سے مظلوموں کی آہوں سے انسانوں کی چیخوں سے تھراتے ہیں ویرانے سچ کہتا ہے رات ڈھلی رات ڈھلی یا خون میں ڈوبی ہوا ...

    مزید پڑھیے

    تجسس

    اس سرائے میں مسافر کا قیام ایک لمحہ بے یقینی کا جس کو جنت یا جہنم جو بھی کہہ لو کیا کسی پہ انحصار ہر کوئی اپنے عمل کا ذمے دار بھول کر بھی یہ نہ سوچو کہ مقدر بھی بناتا ہے کوئی ورنہ جو ہے سامنے چپ چاپ دیکھو کیا بھلا ہے کیا برا جب تلک سہنے کی طاقت ہے سہو حال دل اپنا کسی سے مت کہو اب تو ...

    مزید پڑھیے

    سناٹا

    میری گردن میرے شانے میرے لب سب کے سب ویران ہیں اپنے گھر میں ایک میں ہوں اور کالی رات کا پر ہول سناٹا کسی کے پاؤں کی آہٹ نہیں چوڑیوں اور برتنوں کی کھنکھناہٹ بھی نہیں سوئی دھاگے ایک دوجے سے بھرے بیٹھے ہوئے ہیں دھول میں لپٹی کتابیں میز پر بکھری پڑی ہیں اور چولھا لکڑیوں کی یاد میں ...

    مزید پڑھیے

    تیسری پالی

    وہ بھی اک اچھا مصور تھا پچھلے بلوے میں ہی اس کے دونوں بازو کٹ گئے اور اس بلوے میں اس کی دونوں آنکھیں بجھ گئیں نور فطرت کی سبھی شکلیں مٹیں بڑی مشکل سے اس اندھے مصور کو ایک کمرہ چال میں ہی مل گیا اور پڑوسن کے وسیلے سے جواں بیٹی کو بھی کارخانے میں سدا کی تیسری پالی ملی اب وہ ماں کی ...

    مزید پڑھیے

    ربط

    روح کے تحفظ میں جسم کچلا جاتا تھا اک زمانہ ایسا تھا اک زمانہ ایسا ہے روح کچلی جاتی ہے جسم کے تحفظ میں اک زمانہ آئے گا جسم جب سپر ہوگا روح کے تحفظ میں

    مزید پڑھیے

    کالا سورج

    کتنے روشن آفتابوں کو نگل کر کالا سورج روشنی کے شہر میں داخل ہوا ساری کالی قوتوں نے کالے سورج کو اٹھایا دوش پر خود سبھی راہوں کو روشن کر گئے خود بخود سارے مکان و کارخانے جل اٹھے خود بخود غل ہو گئے سارے چراغ بے گناہوں کے لہو نے راستے روشن کیے آدمی کا کیا قصور رات بھر یہ کالا ...

    مزید پڑھیے