اختر نظمی کی غزل

    جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

    جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں یا کسی اور طلب گار کو دے دیتا ہوں دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کے لئے اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں جو دعا اپنے لئے مانگنی ہوتی ہے مجھے وہ دعا بھی کسی غم خوار کو دے دیتا ہوں مطمئن اب بھی اگر کوئی نہیں ہے نہ سہی حق تو میں پہلے ہی حق ...

    مزید پڑھیے

    ترک وفا کی بات کہیں کیا (ردیف .. ے)

    ترک وفا کی بات کہیں کیا دل میں ہو تو لب تک آئے دل بیچارہ سیدھا سادا خود روٹھے خود مان بھی جائے چلتے رہیے منزل منزل اس آنچل کے سائے سائے دور نہیں تھا شہر تمنا آپ ہی میرے ساتھ نہ آئے آج کا دن بھی یاد رہے گا آج وہ مجھ کو یاد نہ آئے

    مزید پڑھیے

    لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے

    لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے جہاں سے حاشیہ چھوڑا گیا ہے اگر مانوس ہے تم سے پرندہ تو پھر اڑنے کو پر کیوں تولتا ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ مرا سامان سب بکھرا ہوا ہے میں جا بیٹھوں کسی برگد کے نیچے سکوں کا بس یہی ایک راستہ ہے قیامت دیکھیے میری نظر سے سوا نیزے پہ سورج آ ...

    مزید پڑھیے

    اب نہیں لوٹ کے آنے والا

    اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں رک گیا روز کا آنے والا عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے ایک تصویر بنانے والا لاکھ ہونٹوں پہ ہنسی ہو لیکن خوش نہیں خوش نظر آنے والا زد میں طوفان کی آیا کیسے پیاس ساحل پہ بجھانے والا رہ گیا ہے مرا سایہ بن ...

    مزید پڑھیے

    یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا

    یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا ہے سیرگاہ یہ کچی منڈیر سانپوں کی یہاں سے کیسے کوئی راستہ بنائے ...

    مزید پڑھیے

    سلسلہ زخم زخم جاری ہے

    سلسلہ زخم زخم جاری ہے یہ زمیں دور تک ہماری ہے اس زمیں سے عجب تعلق ہے ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے اب سمندر کی ذمہ داری ہے بیچ ڈالا ہے دن کا ہر لمحہ رات تھوڑی بہت ہماری ہے ریت کے گھر تو بہہ گئے ...

    مزید پڑھیے

    خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے

    خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے مرے سفر کی تھکن کون اتار جاتا ہے یہ اس کا اپنا طریقہ ہے دان کرنے کا وہ جس سے شرط لگاتا ہے ہار جاتا ہے یہ کھیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا میں جیت جاتا ہوں بازی وہ مار جاتا ہے میں اپنی نیند دواؤں سے قرض لیتا ہوں یہ قرض خواب میں کوئی اتار جاتا ...

    مزید پڑھیے

    کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

    کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے وہ خط بھی مگر میں نے جلا کر نہیں پھینکے ٹھہرے ہوئے پانی نے اشارہ تو کیا تھا کچھ سوچ کے خود میں نے ہی پتھر نہیں پھینکے اک طنز ہے کلیوں کا تبسم بھی مگر کیوں میں نے تو کبھی پھول مسل کر نہیں پھینکے ویسے تو ارادہ نہیں توبہ شکنی کا لیکن ابھی ٹوٹے ...

    مزید پڑھیے