Ahmad Sagheer

احمد صغیر

عصر حاضر کے معروف فکشن نویس، کمزور سماجی طبقے کی کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Well known fiction writer, acknowledged for his stories on weaker sections of society.

احمد صغیر کی رباعی

    مسیحائی

    دھیرے دھیرے ماریہ نے آنکھیں کھولیں—‘ اُس نے نگاہیں اُٹھا کر دیکھا — چاروں طرف گہری خاموشی اور بلا کا سنّا ٹا چھا یا ہوا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل مسلط تھے۔ ماریہ نے آس پاس نظریں گھمائیں۔ وہ ایک کیچڑ سے بھرے گندے گڑھے میں پڑی تھی۔ اُسکے آس پاس گندے پانی اور کیچڑ کا جماؤ تھا۔ وہ ...

    مزید پڑھیے

    ہَوا شکار

    اس لڑکی کو میں نے ایک دن کے لئے خریدا تھا۔ پورے چوبیس گھنٹے کے لئے۔ وہ بے حد حسین تھی ‘اتنی حسین کہ کوئی ایک بار دیکھ لے تو اس کے اندر اسے پانے کی خواہش جاگ اٹھے۔ جب وہ میرے سامنے آئی تو کچھ دیر کے لئے میں حیرت میں پڑ گیا۔ اتنی حسین لڑکی اور اس پیشے میں؟ اسے تو کوئی بھی راج کمار ...

    مزید پڑھیے

    لہو رنگ تصویر

    اندھیرے کی حکومت بڑھتی جا رہی ہے۔ چراغ ایک ایک کرکے بجھ رہے ہیں۔ میں آئندہ منظر کی دستک سے ڈرتی ہوں۔ پتہ نہیں آنے والا منظر کیسا ہو۔۔۔۔۔۔؟ ملک کے حالات بدلتے جا رہے ہیں۔ شائستہ کی بے چینی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو ایک انجانا سا خوف اس کے اندر ...

    مزید پڑھیے

    تعفن

    غروب ہوتے ہوئے سورج کی زر نگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں کی اکلوتی چائے کی دکان سے ...

    مزید پڑھیے

    انّا کو آنے دو

    سارا گاؤں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا تھا—————‘ آہستہ آہستہ گھروں سے اُٹھتے شعلے اب دھواں بن چکے تھے۔ گلیاں ویران تھیں‘ لوگ اپنے اپنے گھروں میں یوں چھپے بیٹھے تھے جیسے مرغیاں دربوں میں دبکی رہتی ہیں۔ آسمان کاکنارہ تک سیاہ مائل ہو چکا تھا اور ہر طرف خاموشی کی طویل چادر بچھی ...

    مزید پڑھیے

    سمندر جاگ رہا ہے

    بھیانک رات.........! گھٹا ٹوپ اندھیرا اور اندھیرے میں ڈوبا ایک جزیرہ‘ جزیرے کے وسط میں ایک شہر لیس بوس (LES BOSE)‘ ویران سڑکیں اور خاموشی کا سینہ چیرتی تیز رفتار گاڑیوں کی آوازیں۔ جیسے جیسے رات بھیگتی گئی آوازیں مدھم پڑتی گئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ آوازیں معدوم ہو گئیں لیکن شانت ...

    مزید پڑھیے

    شدّھی کرن

    بوڑھے شجر پر صبح کی کرنیں جب پڑتیں‘ کرشنا چودھری کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نمودار ہو جاتی۔ اسکی پلکوں پہ خوشی کے تارے جھلملانے لگتے۔ ایک خواب تھا جو برسوں سے اسکی آنکھیں دیکھتی آ رہی تھیں۔ خواب پہلے پہل دھندلا سا نظر آتا تھا لیکن جیسے جیسے اسکا بیٹا وکاس چودھری اپنی کلاس میں ...

    مزید پڑھیے

    شکستگی

    رات آدھی گزر چکی تھی۔ شہر کی رونق میں کمی آگئی تھی۔ گھروں اور سڑکوں کے بلب تھکے تھکے لگ رہے تھے جیسے جلتے جلتے اب اس میں جلنے کی سکت نہیں رہی تھی لیکن شالنی تھکے ہونے کے باوجود بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ کئی دنوں سے اس کی آنکھوں سے نیند ہجرت کر گئی تھی بلکہ اس دن سے جس دن محفوظ ...

    مزید پڑھیے

    منڈیر پر بیٹھا پرندہ

    آنکھوں میں آسمان! پیروں میں سفر! ہاتھوں میں پتھّر! وہ پرندہ کب کہاں مل جائے جس کی تلاش نے مجھے گلی کوچوں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیا۔ میں کتنے مزے سے اپنے گھر میں سکھ کی سانس لے رہا تھا کہ اچانک میری منڈیر پر وہ ایک پرندہ نظرآگیا۔ پہلے تو میں نے نظر انداز کر دیا‘ لیکن آہستہ ...

    مزید پڑھیے

    پیاسی ہے زمیں، پیاسا آسماں

    غروب ہوتے ہوئے سورج کی زر نگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں کی اکلوتی چائے کی دکان سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2