وہ شخص جس کے پیار میں عالم دوانہ تھا

وہ شخص جس کے پیار میں عالم دوانہ تھا
رخصت ہوا تو یاد سے غافل زمانہ تھا


کیا تھی خبر کہ تو ہے مری آستیں کا سانپ
تجھ سے تو میری جان مرا دوستانہ تھا


بجلی گری تو مجھ پہ گری کیسے ہم نشیں
اک ساتھ ہی تو تیرا مرا آشیانہ تھا


راون بھی جس کو دیکھ کے شرما رہا ہے آج
اتنا برا تو رام کا بھارت ہوا نہ تھا


گنگا پہ ہے شباب نہ جمنا ہے دل فریب
اس سے تو خوب تر مرا گزرا زمانہ تھا


لگنے لگا تھا حاکم اعلیٰ ہی خود غرض
غیروں کے حق میں اس کا عمل مشفقانہ تھا


جاویدؔ یاد آتی ہیں رشتوں کی چاہتیں
کتنا حسین دور تھا کیسا زمانہ تھا