ہوں ذات فنا مجھ کو فنا کون کرے گا

ہوں ذات فنا مجھ کو فنا کون کرے گا
قطرے کو سمندر سے جدا کون کرے گا


تو رحمت عالم ہے شہنشاہ مدینہ
امت پہ کرم تیرے سوا کون کرے گا


لینا ہے تو لے لے ابھی جنت کی دعائیں
گر ماں نہ رہے گی تو دعا کون کرے گا


اس دور میں ملتا نہیں شیشہ گر پر فن
پھر شعر پرکھنے کی خطا کون کرے گا


گھر میرا جلانا ہے تو دامن نہ بچانا
بھڑکے ہوئے شعلوں پہ ہوا کون کرے گا


تو درد محبت کا مجھے دے تو رہا ہے
یہ بھی تو بتا اس کی دوا کون کرے گا


جاویدؔ مری جان کے دشمن ہیں مرے دوست
اب تو ہی بتا میرا بھلا کون کرے گا