یار کے بن بہار کیا کیجے
یار کے بن بہار کیا کیجے گل نہ ہووے تو خار کیا کیجے کام میرا تو ہو چلا آخر اے مرے کردگار کیا کیجے کوئی وعدہ وفا نہیں کرتا وہ تغافل شعار کیا کیجے مثل آئینہ خود نما میرا سب سے ہو ہے دو چار کیا کیجے سوز دل میرا مجھ کو دے ہے جلا آہ مثل چنار کیا کیجے عشق نے کر دیا مجھے مجبور اب نہیں ...