کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں
کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں ہوں سراپا قیس صحرائے جنوں چشم خوں افشاں مری رو دیں اگر دشت ہو جاوے ابھی دریائے خوں دار پر رکھیں مجھیں منصور وار فاش کر دوں میں اگر راز دروں عشق ہے گنجینۂ اصرار حق پا نہیں سکتی اسے عقل زبوں کون کر سکتا ہے مجھ دیوانہ کون قید جز زنجیر و زلف پر ...