دھرتی میں بھی رینگ رہی ہے خون کی اک شریان
دھرتی میں بھی رینگ رہی ہے خون کی اک شریان پتھر کی رگ رگ میں مچلا اشکوں کا طوفان چیخ ہوا کی دینے لگی ہے ایک لغت ترتیب پھولوں کا موضوع سخن ہے شعلوں کی پہچان دریا دریا طوفانوں نے گیت کئے کمپوز صحرا صحرا دھول کے بادل بانٹ گئے گلدان شام کی اجرک ڈھونڈھ کے لائے دھوپ نہائے پیڑ شام کی ...