میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں
میرا دکھ کنوؤں کہ ترائیوں میں اتر گیا ہے میں اسے کھینچ کر نکال لوں گا میری آنکھوں میں اک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا ہم نے ایک ہی گھونٹ سے پیاس بجھائی جو تم نے حلق کے اندر سے چکھا اور میرے ہونٹوں نے تمہارے حلق کے باہر سے تم ہماری طرف رخ کر کے کتاب ...