قومی زبان

قطب صاحب کی سیر

عجب بےفکرے تھے یہ دلی والے بھی۔ اپنی جان کو کوئی غم نہ لگاتے تھے۔ کہتے تھے، ’’فکر جان کا روگ ہوتا ہے۔ ہم غم کیوں پالیں؟ پالیں ہمارے دشمن، بیری۔ شکر خورے کو شکر اور موذی کو ٹکر۔ میاں اسی لئے تو کماتے دھماتے ہیں کہ آنند کے تار بجائیں۔ ان کی بھلی چلائی جو جوڑ جوڑ مر جائیں گے اور ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساز

موسیقی کے تین عناصر ہیں۔ گانا، بجانا اور ناچنا۔ یہ سب ذرائع ہیں اظہارِ جذبات کے۔ فنکار کسی جذبے کی تصویر بناتا ہے یا خود تصویر بن جاتا ہے اور سننے والے یا دیکھنے والے کے دل میں بھی وہی جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ کمالِ فن یہی ہے کہ فنکار دوسروں کو بھی اسی طرح متاثر کرے جس طرح خود متاثر ...

مزید پڑھیے

دلی والوں کے شوق

دلی والوں کو اپنی جان بنائے رکھنے کا بڑا شوق تھا۔ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے ورزش کیا کرتے تھے اور ورزشی کھیلوں میں شریک ہوتے تھے۔ ہر گھر میں بگ ڈڑ اور مگدروں کی جوڑی ضرور ہوتے تھے۔ بعض لوگ بگ ڈڑ کا کام گما انٹیوں سے لیتے تھے۔ دیسی ورزش سے سینے چوڑے اور کمر چھلاسی ہو جاتی تھی۔ ...

مزید پڑھیے

چٹورپن

دلی والے بڑے چٹورے مشہور تھے۔ انہیں زبان کے چٹخاروں نے مار رکھا تھا۔ کچھ مردوں ہی پر موقوف نہیں، عورتیں بھی دن بھر چرتی رہتی تھیں اور کچھ نہیں تو پان کی جگالی ہی ہوتی رہتی تھی۔ بنگلہ پان تو غریب غربا بھی نہیں کھاتے تھے۔ جب دیسی پان افراط سے ملتا تو موٹے پتے کون چبائے؟ دو ڈھائی ...

مزید پڑھیے

سر سید کا کردار

سر سید کے اخلاق و عادات پر حالی نے حیات جاوید میں جو بسیط ’شاید ضرورت سے زیادہ بسیط‘ تبصرہ کیا ہے، اس کے بعد اس موضوع پر طویل اظہار خیال بظاہر غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد طریقے طریقے سے سرسید کے متعلق ناخوشگوار شوشے چھوڑے گئے ہیں اور بعض با اثر ...

مزید پڑھیے

اہمال کی منطق

شاعری میں تخلیقی عمل کے حسی اور اظہار ی وسائل کی معنویت اور بے معنویت کا سوال کسی مخصوص دور یا رجحان سے وابستہ کرنا غلط ہے۔ اس مسئلے کا تعلق تخلیقی عمل کے بنیادی سوالات سے ہے۔ چنانچہ تخلیقی عمل کے مظاہر میں ابہام، اشکال اور اہمال کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود فنون لطیفہ ...

مزید پڑھیے

غالب، شعر، شہر اور شعور

(غالب اور آگرہ)کبھی شہر دلوں کی طرح دھڑکتے ہیں۔ ان کی آبادی میں ہمیں اپنی آبادی کا اور ان کی ویرانی میں اپنی ویرانی کا سراغ ملتا ہے۔ ایودھیا، کپل وستو، پاٹلی پتر، غرناطہ، یہ اجڑی ہوئی بستیوں کے نام نہیں بلکہ استعارے ہیں جنہیں وقت پامال نہیں کر سکا اور جن کے خدو خال نسلوں کے ...

مزید پڑھیے

ادب میں انسان دوستی کا تصور

بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ پُر تشدد صدی تھی۔ اکیسویں صدی کے شانوں پر اسی روایت کا بوجھ ہے۔ جسمانی تشدد سے قطع نظر، بیسویں صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔ تہذیبی، لسانی، سیاسی، جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ اس صدی ...

مزید پڑھیے

انتظار حسین ایک ادھوری تصویر

ایک نئے افسانہ نگار نے برسوں پہلے مجھے لکھا تھا، ’’ہماری کہانیاں آپ کو اس وقت تک پسندنہیں آئیں گی جب تک کہ آپ قرۃ العینوں اور انتظار حسینوں کے سحر سے نکل نہ آئیں۔‘‘ پتہ نہیں یہ بات کتنی سچ ہے، لیکن ہو نہ ہو ہر پڑھنے والے کے احساسات اپنے گرد کچھ دائرے ضرور بنا لیتے ہیں۔ میں ...

مزید پڑھیے

اردو طنز و مزاح اور زبان و بیان کے مسئلے پر چند باتیں

کسی مشترکہ سرگرمی کی بنیاد پر دو ایسے افراد کو جن کے عمل کی غایت بھی ایک ہو، اگر ہم دو کی بجائے ایک سمجھ بیٹھیں تو بات اور ہے۔ مثال کے طور پر شنکر جے کشن، شنکر شمبھو یا لکشمن کانت پیارے لال وغیرہ۔ مگر دو الگ الگ لفظوں کو محض اپنی کمزور لسانی عادت کی بنا پر کم و بیش ایک سمجھ بیٹھنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6147 سے 6203