قومی زبان

جدید شعری جمالیات

خالی میدان میں اگر کتا بھی گذرے تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ (والیری) اگر قدیم شعری جمالیات منسوخ ہو چکی ہے تو میدان خالی ہے۔ ایسی صورت میں اس کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر وہ چیز جو اس کی جگہ بھرنے کے لیے میدان میں آئےگی، جعلی ہوگی اور اگر جعلی نہ بھی ہو تو اس کو اصلی ثابت ...

مزید پڑھیے

افسانے کی حمایت میں (۶)

کردار قاری اس کی عمر بیس اور چالیس کے درمیان ہے۔ لمبا سفید کرتا اور علی گڈھ کاٹ کا نیچا پاجامہ پہنے ہوئے ہے۔ پاؤں میں ہوائی سلیپر، کاندھے پر ملگجے رنگ کا تھیلا۔ ایسے رنگ کو پرانے لوگ اگرئی یا ملاگیری کہتے تھے۔ اب شاید صرف ملگجا کہلائےگا۔ قاری کی آنکھوں سے ذہانت اور ذکاوت ...

مزید پڑھیے

قرأت، تعبیر، تنقید

قرأت اور تنقیدی قرأتہم ادب کے عام قاری ہوں یا تنقیدی قاری ہوں، دونوں ہی حیثیتوں میں ہم فن پارے کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ ہر فن پارہ تعبیر کا تقاضا کرتا ہے لیکن ہمارا یہ کہنا کافی نہیں۔ اس قول، یا اس دعوے کے ساتھی یہ بھی کہنا یا یہ دعویٰ بھی کرنا ضروری ہے کہ قاری یا تنقیدی ...

مزید پڑھیے

تاریخ، عقیدہ اور سیاست

پرانے زمانے میں ’’اردو‘‘ نام کی کوئی زبان نہیں تھی۔ جولوگ ’’قدیم اردو‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، وہ لسانیاتی اور تاریخی اعتبار سے نادرست اصطلاح برتتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ’’قدیم اردو‘‘ کی اصطلاح کا استعمال آج خطرے سے خالی نہیں۔ زبان کے نام کی حیثیت سے لفظ ...

مزید پڑھیے

نثری نظم یا نثر میں شاعری

شاعر کی حیثیت سے اپنے آپ کو دہرانا اور نقاد کی حیثیت سے اپنا حوالہ آپ دینا مجھے انتہائی قبیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت بات ہی ایسی آ پڑی ہے کہ مجھے اپنی کہی ہوئی باتیں دہرانی پڑ رہی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میں نثری نظم کا مخالف ہوں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کی خدمت میں اپنی ...

مزید پڑھیے

ولی نام کا اک شخص

۱۹۶۶ میں لگائے گئے ایک تخمینے کے مطابق اس وقت دیوان ولی کے ۶۵نسخے ایسے موجود تھے جن میں تاریخ کتابت درج تھی۔ اور ۵۳ یسے تھے جن میں تاریخ کتابت نہ تھی۔ ان کے علاوہ، ۳۳ایسی مخطوطہ بیاضیں موجود تھیں جن میں ولی کے کلام کا معتدبہ انتخاب درج تھا۔ نورالحسن ہاشمی، جو ہمارے زمانے کے ...

مزید پڑھیے

اردو غزل کی روایت اور فراق

(رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، ۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء)فراق صاحب کی موجودہ عزت و شہرت کے پیش نظر ان کے بارے میں کوئی اختلافی بات کہنا بھڑوں کا چھتہ چھیڑنا ہے۔ میں اپنے دفاع میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ میں یہ کام فراق صاحب کی زندگی میں بھی تھوڑا بہت کر چکا ہوں۔ بہت عرصہ ہوا میں نے لکھا تھا کہ ...

مزید پڑھیے

غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو

غالبؔ نے میرؔ سے بار بار استفادہ کیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غالب اور میر ایک ہی طرح کے شاعر تھے۔ یعنی بعض مظاہر کائنات اور زندگی کے بعض تجربات کو شعر میں ظاہر کرنے کے لیے دونوں ایک ہی طرح کے وسائل استعمال کرنا پسند کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غالب کا اسلوب میر سے مستعار ...

مزید پڑھیے

افسانے میں کہانی پن کا مسئلہ

اگر کسی افسانے میں کہانی پن ہو تو کیا وہ افسانہ دلچسپ ہوجاتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے، تو کہانی پن اور دلچسپی ایک ہی شے کے دو نام ٹھہرتے ہیں۔ یا اگر وہ ایک ہی شے نہیں تو لازم اور ملزوم ضرور بن جاتے ہیں۔ اگر اس سوال کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے تو یہ کہنا ممکن ہو جاتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

فن بلاغت

مسلمانوں نے جوعلوم وفنون خودایجاد کئے اورجن میں وہ کسی کے مرہون منت نہیں، ان میں ایک یہ فن بھی ہے۔ عام خیال یہ ہے اورخودہم کوبھی ایک مدت تک یہ گمان تھا کہ یہ فن بھی مسلمانوں نے یونانیوں سے لیا۔ ابن اثیر نے مثل السائر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ، ’’یونانیوں نے فن بلاغت پر جو کچھ لکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6143 سے 6203