قومی زبان

غالب اور عہد غالب کا تخلیقی ماحول

ادب اور آرٹ کی طرح کلچر بھی سوچ سوچ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ غالب اور ان کے عہد کی فکر، خاص طور سے ادبی فکر کے رابطوں کو سمجھنے کے لیے کلچر، آرٹ اور ادب کی خود مختاری کے تصور اور ایک غیر معمولی شخصیت کے انفرادی رویوں کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ غالب اپنے مزاج اور اپنی ذہنی ساخت کے ...

مزید پڑھیے

فراق اور نئی غزل

نئے عہد کی طرح نئی غزل کو بھی کچھ لوگ پرانے عہد یا پرانی غزل کا جواب سمجھ بیٹھے تھے۔ مگراب اسے کیا کہا جائے کہ نئی غزل ابھی اچھی طرح نئی ہو بھی نہیں پائی تھی کہ پرانی دکھائی دینے لگی۔ ایک ایسی صنف جو ایک پوری تہذیب کے نقطہ کمال کی نشاندہی کرتی ہو، اس کا یہ حشر افسوسناک ہے۔ ہرتہذیب ...

مزید پڑھیے

میرا جی اور نئی شاعری کی بنیادیں

’’جی چاہتا ہے کہ بازاری گویا بن کر گلی گلی بستی بستی گھومتا پھروں۔ یوں ہی زندگی گزار دوں۔ ایک عورت اور ایک ہارمونیم کی پیٹی پہلو میں لئے اور دنیا یہ سمجھے کہ وہ ہمارا تماشہ دیکھ کر رحم کھاتی ہے اور میں یہ سمجھوں کہ تماشائی ہوں۔ یہ ہارمونیم کی پیٹی، یہ میرے ساتھ گاتی ہوئی عورت ...

مزید پڑھیے

اقبال اور جدید غزل

اقبال کی غزل اپنے داخلی نظام اور خارجی ہیئت کے اعتبار سے ایک نئی واردات کا علامیہ ہونے کے باوجود اپنے بعد کی غزلیہ شاعری پربراہ راست اثرانداز نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس سوال کا جواب کہ کیا جدید غزل کے منظرنامے پر اقبال کے اثرات کی باضابطہ نشان دہی کی جا سکتی ہے؟ بالعموم نفی میں ہوگا۔ ...

مزید پڑھیے

کچھ عسکری صاحب کے بار ے میں

عسکری نے تنقید نہیں، آپ بیتی لکھی ہے۔ یوں شعر و ادب اور فنون لطیفہ کے باب میں باضابطہ قسم کی تنقید سے قطع نظر، عام گفتگو بھی کسی نہ کسی سطح پر آپ بیتی ہی ہوتی ہے۔ یہاں ان ماہرین یامبتدین شماریات کاذکر نہیں جو ادب کو بھی جنس بازار جیسی کوئی چیز سمجھ کر تفہیم اور تجزیے کے نام پر ...

مزید پڑھیے

غالب کا طرز احساس اور سماجی شعور کا مسئلہ

غالب کی شاعری کا عقبی پردہ ایک تیزی سے بنتی، بگڑتی اور بدلتی ہوئی دنیا ہے، ایک ایسی اجتماعی صورت حال جس کا رقبہ مسلسل پھیلتا جاتا ہے، اور ایک ایسا معاشرہ جس کی تشکیل کا عمل مغلیہ حکومت کے خاتمے اور انگریزی اقتدار کے تسلط کے باوجود غالب کی زندگی میں مکمل نہیں ہوسکا۔ انیسویں صدی ...

مزید پڑھیے

محمد علوی (سنو تو سارے منظر بولتے ہیں)

ہمارے عہد کو علما اور مفکرین کئی ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ کوئی اسے اضطراب کا عہد کہتا ہے، کوئی تمنا کا، کوئی بحران کا، کسی کے نزدیک یہ تغیرنو کا عہد ہے، کسی کے لئے جذبات کے فقدان کا، کسی کے لئے تجزیے کا اور کسی کے لئے عدم تعقل کا۔ الگ الگ سمتوں میں جاتے ہوئے ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

افسانے کی حمایت میں (۵)

کردار، تین دوست، جن میں دو ملاقاتی ہیں اور ایک میزبان۔ ایک درویش۔ایک ملاقاتی کی عمر چالیس اور ساٹھ کے درمیان ہے۔ چھوٹا قد، گول مول بدن، بڑا سر جس پر گنتی کے دوچار بال، بلند قہقہوں جیسی گونجتی ہوئی آواز، چہرہ داڑھی مونچھوں سے بے نیاز۔ پتلون بش شرٹ اور سینڈل میں ملبوس ہے۔ ایک ...

مزید پڑھیے

مغرب میں جدیدیت کی روایت

کپلنگ کا بدنام زمانہ قول ’’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب، اور دونوں کا نقطۂ اتصال کوئی نہیں۔‘‘ ہندوستان اور یورپ دونوں کے دانش وروں کا ہدف ملامت رہا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس جذبہ کے تحت یہ بات کہی گئی وہ یقیناً قابلِ اعتراض تھا، لیکن کپلنگ سے کوئی خاص ہم دردی نہ رکھتے ...

مزید پڑھیے

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟

تنقیدمیں کوئی کسی کا ہم سر یا ہم سفر ہوتا یا ہو سکتا ہے، یہ بات بڑی مشکوک ہے۔ بعض لوگ جو نقادوں سے یا تنقیدوں سے ناراض ہیں، وہ تو یہ کہتے ہیں کہ جس سے تخلیق نہ بن پڑے وہ تنقیدکی دکان کھولتا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر ہم سری یا ہم سفری کا کیا سوال؟ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ یہ الگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6140 سے 6203