قومی زبان

گھونسلہ

بہو بیگم کے کمرے کی کھڑکی گھر کے پچھلے صحن کی طرف کھلتی تھی جہاں صحن کے بیچ و بیچ بیری کا قدیم پیڑ کسی پرانی یاد کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔ جب سے بہو بیگم بیاہ کر اس گھر میں آئی تھیں انہوں نے اس پیڑ سے دوستی سی کر لی تھی۔جب بھی فارغ ہوتیں کھڑکی میں بیٹھ کر اس پیڑ کو دیکھتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

تیرہواں گھنٹہ

پچھلے چار پانچ دن سے وہ اضطراب سا محسوس کر رہا تھا۔ ایک عجیب سی بے چینی اور احساس اسے گھیر لیتا۔ ایسے لگتا جیسے دو آنکھیں اسکا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا مگر ہجوم میں سمجھ نہ پاتا کہ کس کی آنکھیں اسکا طواف کر رہی ہیں۔ آج تو اس نے پی بی کم تھی۔ ہلکے ہلکے سرور میں اچانک ...

مزید پڑھیے

بلیک آؤٹ

محلے کے بڑے بوڑھے بتاتے تھے کہ جس رات وہ پیدا ہوا تھا توبڑا طوفان آیا ہوا تھا، مسلسل ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی۔ گلیوں میں کمر کمر پانی کھڑا ہوگیا۔ بڑے بڑے تناور درخت اپنی جگہ چھوڑ بیٹھے۔ بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے تھے۔ گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے دن اور رات کی تمیز تقریباً ختم ...

مزید پڑھیے

نئی عورت

محلے بھر میں اس کی مخالفت آج کل روزوں پر تھی۔ بزرگ اس کا نام آتے ہی لاحول پڑھتے تھے۔ آتے جاتے کہیں نظر پڑ جاتی تو کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے گزر جاتے۔ لونڈے لباڑے دن بھر گلی میں شور و غل مچائے رکھتے، نئے نئے کھیل ایجاد کئے جاتے، مگر جہاں اسے آتے دیکھا تو دم سادھ کر کھڑے ہو جاتے یا ...

مزید پڑھیے

کرم سنگھ

میں کرم دین (کرمو) کی قبر کے سہارے ٹیک لگائے ماضی کے دھندلکوں میں نجانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہند و پاک کی تقسیم سے قبل میں اور کرم سنگھ ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔۔ پنجاب کا یہ چھوٹا سا گاؤں ہماری جنت تھا۔ بچپن لڑکپن اور جوانی کی سنہری یادیں آج بھی میرا سرمایہء حیات ...

مزید پڑھیے

صبح کا بھولا

فتو کا مسئلہ بھی وہی تھا، یعنی کمانے والا ایک اور کھانے والے پانچ۔ فتو، اس کی بیوی، دو بچیاں اور ایک لڑکا سردار اں میٹرک کا امتحان دے رہی تھی۔باقی بچے چھوٹی جماعتوں میں تھے۔ پاک فضائیہ میں جہاں اور بہت سے لوگ ملک و قوم کی ترقی کے لئے رات دن کوشاں رہتے ہیں۔ وہیں فتو بھی ایک یونٹ ...

مزید پڑھیے

چور

رات کا وقت ، حدِ نظر تک چھائی تاریکی اور اپنی تنہائی کا احساس کچھ زیادہ ہی خوفزدہ کر رہا تھا ۔ چولہے میں جلتی ہوئی آگ اور چائے کے پانی کی ہلکی ہلکی سنسناہٹ ماحول بھی کو آسیب زدہ بنارہی تھی۔ امتحان میں چند ہی روز رہ گئے تھے اس وجہ سے ہم آدھی آدھی رات تک پڑھنے میں مصروف رہتے تھے ۔ اس ...

مزید پڑھیے

تج دو تج دو!

یہ الفا٭۔۔۔۔۔ باربار اس کی سماعت کے تعاقب میں یہ الفاظ آتے رہے۔ جب وہ سونے کے لیے بستر پر دراز ہوتا اور خاموش، سنسان کمرے اور اس کی دیواروں کو تکتے تکتے تھک جاتا تو آنکھیں بند کرلیتا، پھر بند آنکھوں میں جانے کتنی صدیوں کی درمیان پھیل جاتیں، افسردگی کا تسلط ہو جاتا اس کے بعد ...

مزید پڑھیے

بابا لوگ

’’بابا لوگ سب کمرے میں آ جاؤ— ام تم کو کہانی سنائے گا!‘‘ پھر بابالوگ یہ سنتے ہی کمرے میں آ گئے اور بڈھ٘ے انکل کے مونڈھے کو یوں گھیر لیا، جیسے اکمس کی ننھی ننھی موم بتیاں ہوں جوبڑ ے سے کیک کے چاروں طرف استادہ کردی گئی ہوں۔ بڈھ٘ے انکل نے ایک بار نگاہ اٹھا کر ساتوں بچ٘وں کا جائزہ ...

مزید پڑھیے

خالد کا ختنہ

جوتقریب ٹلتی آرہی تھی،طے پاگئی تھی۔تاریخ بھی سب کو سوٹ کرگئی تھی۔پاکستان والے خالو اور خالہ بھی آگئے تھے اورعرب والے ماموں ممانی بھی۔ مہمانوں سے گھربھرگیاتھا۔ بھراہوا گھر جگمگارہاتھا۔ درودیوار پرنئے رنگ وروغن روشن تھے۔چھتیں چمکیلے کاغذ کے پھول پتوں سے گلشن بن گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6079 سے 6203