زنجیریں
وہ چلتاجا رہا تھا۔سفر کہاں سے شروع ہوا ، اسے یاد تھا کہاں ختم ہوگا وہ نہیں جانتا تھا ۔ بچپن کی کچھ دھندلی یادیں تھیں ۔ باپ کا سخت گیر رویہ اور منہ پر دوپٹہ رکھ کر سسکتی ہوئی ماں جواسے جب الماریاں الٹا کر پیسے نکالتے دیکھتی تو چیل کی طرح جھپٹ پڑتی، واسطے دیتی، بچوں کے نام کی دہائی ...