قومی زبان

شرم الحرم

’’مسٹر مصطفےٰ فائق تمہارا گھر کہاں تھا؟‘‘ مصطفےٰ فائق نے سامنے میز پر پڑے ہوئے نقشے کو سامنے سرکایا، انگلی رکھ کر کہا، ’’میرا گھر اس جگہ ہے۔‘‘ ’’یہ تو سرحد پر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا گھر تو گیا۔‘‘ مصطفےٰ فائق رکا، پھر دانت چبا کر بولا، ’’میرا گھر نہیں جا ...

مزید پڑھیے

میوہ فروش

سیٹھ فاروق بمبئی کے مشہور تاجروں میں تھے۔ ان کے مال و متاع کا اندازہ مشکل تھا۔ ان کے مقدر کی قسم کھائی جاتی تھی۔ مٹی میں ہاتھ ڈالتے تو سونا ہو جاتی۔ وہ بمبئی کی سب سے بڑی جہازراں کمپنی کے مالک اور ایک بین الاقوامی بینک کے سب سے بڑے حصہ دار تھے۔ بمبئی کے علاوہ ان کی ایک کپڑے کی مل ...

مزید پڑھیے

ہوا بند کیوں ہے؟

پہلی بار جب پہرے والا سپاہی سلاخوں کے باہر سے گذرا تو احمد کو وہ خیال آیا۔ دوسری دفعہ وہ اسے آواز دینے کو ہوا اور ہونٹ کھول کر رہ گیا۔ اس کے بعد سپاہی نے متواتر کئی پھیرے کئے، لیکن احمد کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا۔ بالاخر جب اس نے آواز دی تو وہ اتنی مدھم تھی کہ جیل کی اس کوٹھری میں ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا کے شور میں !

شام کا اندھیرا بیٹھتے ہوئے غبار کی طرح آہستہ آہستہ آنگن میں اتر آیا تھا ۔ نیم کے پیڑ پر چڑیاں دیر ہوئی شور مچا کر خاموش ہو چکی تھیں ۔ لیکن نیچے کنویں پر سہ پہر کے رکھے ہوئے برتن اب تک پڑے تھے جنہیں کوؤں نے کچھ دانے کی تلاش میں کھینچ کھینچ کر ادھر اُ دھر پھیلا دیا تھا ۔ اب اندھیرے ...

مزید پڑھیے

روزن

ابے سالے کیا کرتا ہے جسیم چپراسی کی پاور ہارن جیسی آواز چودہ سالہ معید کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُتر گئی ۔ اس کے کان تپ کر سرخ ہوگئے ۔ پھر یہ سرخی چہرے پر پھیل گئی اور ایک سنسنا ہٹ سی گردن سے گزرتی ہوئی سینے میں اُترنے لگی ۔ غصے سے اس کا سارا جسم کانپنے لگا ۔ ہر چند کہ اس ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کا ایک ویرانہ

جنوری کی ٹھٹھرتی ہوئی سنسان رات نفیسہ کے گیسوؤں کی طرح آدھی ادھر اور آدھی اُدھر تھی ۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے گیسو اندھیری رات کی طرح سیاہ تھے اور آج کی رات دودھیا چاندنی میں سفید گلاب کی طرح کھلی ہوئی تھی ۔ وہ کھڑکی کے قریب اپنی پلنگ پر بے حس و حرکت پڑی باہر دیکھ رہی تھی ۔ کھڑکی ...

مزید پڑھیے

جونک

کریم کو شہر آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔ وہ ایک دور افتادہ جزیرے میں رہتا جہاں مچھیروں کی مختصر سی آبادی تھی ۔ اپنی چھوٹی سی پرانی کشتی پر وہ سمندر میں مچھلیاں پکڑتا تھا ۔ دن بھر میں بمشکل دو ٹوکرے مچھلی پکڑ پاتا ۔ شام کو شہر سے مختلف آڑھتی آتے اور گاؤں کے تمام ماہی گیروں کی مچھلیاں ...

مزید پڑھیے

خمیازہ

صبح کی خوشگوار ہوا کا ابھی پہلا ہی جھونکا آیا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ، ایسا لگا جیسے کسی نے پیار سے ہلا کر جگا دیا ہو ۔ دوبارہ سونے کی کوشش ناکام ثابت ہوئی ، شاید نیند پوری ہو چکی تھی ۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی پوری کھول دی ۔ جاتی ہوئی رات کا اندھیرا ابھی باقی تھا ۔ واپس بستر پر لیٹ کر ...

مزید پڑھیے

کب ٹھہرے گا درد اے دل!

شباہت کی آنکھوں میں نیند کا دور دور تک کہیں پتہ نہ تھا۔ اور پھوپھی بچوں میں محو تھیں۔ ۔۔۔ چھا جوں برستا پانی اور جنگل کی اندھیری رات۔۔۔ ’’پھوپھی ۔ اب سوجائیے۔ سب لوگ سو چکے‘‘۔ ’’ارے بیٹی۔ میں بخت ماری تو کب کی سو چکی ہوتی، پر بچے سونے دیں تب نا‘‘۔ ’’پھوپھی‘‘۔ شباہت آہستہ ...

مزید پڑھیے

حسرت

اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہوا کی ایک سرد لہر نے ان کا استقبال کیا۔اکا دکالوگ آجا رہے تھے اس لئے ستیشن والی تنہائی کا احساس وہاں نہیں تھا،ایک طرف چائے کا کھوکھا تھا،لڑکے نے دو کپ چائے لی اور ذرا پرے سٹریٹ لائٹ کے نیچے پڑے بینچ پر دونوں بیٹھ گئے۔بینچ کے ساتھ ہی بجلی کا کھمبا تھا جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6068 سے 6203