قومی زبان

جوانی

جب لوہے کے چنے چب چکے تو خدا خدا کر کے جوانی بخار کی طرح چڑھنی شروع ہوئی۔ رگ رگ سے بہتی آگ کا دریا امنڈ پڑا۔ الھڑ چال، نشہ میں غرق، شباب میں مست۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کل پاجامے اتنے چھوٹے ہو گئے کہ بالشت بالشت بھر نیفہ ڈالنے پر بھی اٹنگے ہی رہے۔ خیر اس کا تو ایک بہترین علاج ہے کہ ...

مزید پڑھیے

بدن کی خوشبو

کمرے کی نیم تاریک فضا میں ایسا محسوس ہوا جیسے ایک موہوم سایہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں چھمن میاں کی مسہری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سائے کا رخ چھمن میاں کی مسہری کی طرف تھا۔ پستول نہیں شاید حملہ آور کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ چھمن میاں کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ انگوٹھے اکڑنے لگے۔ سایہ پیروں ...

مزید پڑھیے

چوتھی کا جوڑا

سہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف ستھری جازم بچھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھریوں میں سے دھوپ کے آڑے ترچھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ جیسے کوئی بڑی ورادات ہونے والی ہو۔ ماؤں نے بچے چھاتیوں سے لگا لئے تھے۔ کبھی کبھی کوئی ...

مزید پڑھیے

پہلی لڑکی

جب صبح ہی صبح جھکی ہوئی نظروں سے ماتھے پر ذرا سا آنچل کھینچ کر حلیمہ نے بیگم کو سلام کیا تو ان کی باچھیں کھل گئیں، خیر سے صاحبزادے کی طرف سے جو جان کو دھگدا لگا ہوا تھا۔ وہ تو دور ہوا۔ فورا دریائے سخاوت میں ابال آگیا چھ جوڑے جو اسی مبارک موقعے کے لیے تیار رکھے تھے۔ عنایت ہوئے۔ ...

مزید پڑھیے

دہلیز

کوٹھری کی دہلیز اس کے نزدیک اندھیرے دیس کی سرحد تھی، مٹی میں اٹی چوکھٹ لانگتے ہوئے دل دھیرے دھیرے دھڑکنے لگتا، اور اندر جاتے جاتے وہ پلٹ پڑتی، اس کوٹھری سے اس کا رشتہ کئی دفعہ بدلا تھا، آگے وہ ایک مانوس بستی تھی، مانوس میٹھے اندھیرے کی بستی، گلی آنگن کی جلتی ملتی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

مشکوک لوگ

’’شکر ہے کہ میں ان میں سے نہیں ہوں۔‘‘ باتیں سنتے سنتے اس نے سوچا اور اطمینان کا سانس لیا، ایک تو حسنین تھا، ایک عارف تھا، اور ایک وہ خود، پھر شفیق آگیا۔ ’’آبھئی شفیق!‘‘ عارف کہنے لگا، ’’یار تو نظر نہیں آیا؟‘‘ ’’میں وہاں پہنچا تھا مگر پھر میں پلٹ ...

مزید پڑھیے

ہڈیوں کا ڈھانچ

ایک سال شہر میں سخت قحط پڑا کہ حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی۔ پہلے چیل کوے کم ہوئے، پھر کتے بلیاں تھوڑی ہونے لگیں۔ کہتے ہیں کہ قحط پڑنے سے پہلے یہاں ایک شخص مرکر جی اٹھا تھا۔ وہ شخص جو مرکر جی اٹھا تھا اس کے تصور میں سماگیا۔ اس نے اس تصور کو فراموش کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن وہ تصور ...

مزید پڑھیے

میر معلوم ہے،ملازم تھا

اس وقت تک پاکستان میں اسمارٹ فون ،تھری جی جیسی ٹیکنالوجی اور واٹس اپ، فیس ٹائم،سنیپ چیٹ،ٹوئیٹر،ٹنڈر، اسنیپ چیٹ جیسی سوشل میڈیا کی ایسی غارت گر ایمان اور اودھم مچانے والی ایپس عام نہیں ہوئی تھیں۔ نہ ہی ہر اللے تللے کی کیمرے والے موبائیل فون تک یوں رسائی تھی ، جیسی آج ہے۔اسمارٹ ...

مزید پڑھیے

گھر واپسی

آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ ہاتھ سو گیا ہے، سرھانے،دھرے دھرے میر تقی میرؔ ماہ دسمبر کی اس ٹھٹڑتی سیاہ رات،اسلام آباد میں مینا المعروف بہ نوشابہ حسین کی شادی تھی۔ اس رات ایک عجب بات ہوئی کہ دلہن کے لئے،دولہاکے لئے اور حجلہء عروسی کے لئے،کسی کے لئے بھی پھول نہیں ...

مزید پڑھیے

محاسن

۱ اپنی پیدائش کی منتظر بیٹی کا نام محاسن رکھنے کا فیصلہ اس کے ابّو نے قاہرہ کے ائیرپورٹ پر کیا۔خاتون امیگریشن کلرک جس نے ان کا جلدی میں گم کردہ پاسپورٹ پبلک ایڈریس سسٹم سے کام لے کر تندہی سے تلاش کرکے دیا ، اس نیک دل ، انسان دوست بی بی کا نام محاسن تھا ۔ یہ نام ایک چھوٹی سے نیم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6059 سے 6203