قومی زبان

یہ بچے

ایک زمانہ تھا جب میرا خیال تھا کہ دنیا میں بچے کے سب سے بڑے دشمن اس کے ماں باپ اور بھائی بند ہوتے ہیں۔ وہ اس کے دل کی بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بیجا زبردستیوں سے اس کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کو کچل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بڑے ہوجاتے ہیں تو بجائے مکمل انسان بننے کے چور، ڈاکو اور ...

مزید پڑھیے

لحاف

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ معاف کیجیے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے ...

مزید پڑھیے

جڑیں

سب کے چہرے فق تھے گھر میں کھانا بھی نہ پکا تھا۔ آج چھٹا روز تھا۔ بچے اسکول چھوڑے گھروں میں بیٹھے اپنی اور سارے گھر والوں کی زندگی وبال کیے دے رہے تھے۔ وہی مارکٹائی، دھول دھپا، وہی اودھم اور قلابازیاں جیسے ۱۵اگست آیا ہی نہ ہو۔ کمبختوں کو یہ بھی خیال نہیں کہ انگریز چلے گیے اور ...

مزید پڑھیے

کنواری

اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے وہ اتنی بہت سی سیڑھیاں ایک ہی سانس میں چڑھ آئی تھی۔ آتے ہی وہ بےسدھ پلنگ پر گرپڑی اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کو کہا۔ میں خود خاموش رہنےکے موڈ میں تھی۔ مگر اس کی حالتِ بد دیکھ کر مجھے پریشان ہونا پڑا۔ اس کا رنگ بے حد میلا ...

مزید پڑھیے

جنازے

میرا سر گھوم رہا تھا۔۔۔ جی چاہتا تھا کہ کاش ہٹلر آ جائے اور اپنے آتشیں لوگوں سے اس نامراد زمین کا کلیجہ پھاڑدے۔ جس میں ناپاک انسان کی ہستی بھسم ہوجائے، ساری دنیا جیسے مجھے ہی چھیڑنے پر تل گئی ہے، میں جو پودا لگادوں مجال ہے کہ اسے مرغیوں کے بےدرد پنجے کریدنے سے چھوڑدیں۔ میں جو ...

مزید پڑھیے

ننھی سی جان

’’تو آپا پھر اب کیا ہوگا؟‘‘ ’’اللہ جانےکیا ہوگا۔ مجھے تو صبح سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘، نزہت نے کنگھی میں سے الجھے ہوئے بال نکال کر انگلی پر لپیٹنا شروع کیے۔ ذہنی انتشار سےاس کے ہاتھ کمزور ہوکر لرز رہے تھے اور بالوں کا گچھا پھسل جاتا تھا۔ ’’ابا سنیں گے تو بس اندھیر ہو جائے گا۔ ...

مزید پڑھیے

بڑی شرم کی بات

رات کے سناٹے میں فلیٹ کی گھنٹی زخمی بلاؤ کی طرح غرا رہی تھی۔ لڑکیاں آخری شو دیکھ کر کبھی کی اپنے کمروں میں بند سو رہی تھیں۔ آیا چھٹی پر گئی ہوئی تھی اور گھنٹی پر کسی کی انگلی بے رحمی سے جمی ہوئی تھی۔ میں نے لشتم پشتم جا کر دروازہ کھولا۔ ڈھونڈی چھوکرے کا ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

اپنا خون

سمجھ میں نہیں آتا، اس کہانی کو کہاں سے شروع کروں؟ وہاں سے جب چھمی بھولے سے اپنی کنواری ماں کے پیٹ میں پلی آئی تھی اور چار چوٹ کی مار کھانے کے بعد بھی ڈھٹائی سے اپنے آسن پر جمی رہی تھی اور اس کی میانے اسے اس دنیا میں لانے کے بعد اپلوں کے تلے دباتے دباتے ممتا کی ان جانی سی کیل کلیجے ...

مزید پڑھیے

چھوئی موئی

آرام کرسی ریل کے ڈبے سے لگادی گئی اور بھائی جان نے قدم اٹھایا، ’’الہٰی خیر۔۔۔ یا غلام دستگیر۔۔۔ بارہ اماموں کا صدقہ۔ بسم اللہ بسم اللہ۔۔۔ بیٹی جان سنبھل کے۔۔۔ قدم تھام کے۔۔۔ پائنچہ اٹھاکے۔۔۔ سہج سہج، بی مغلانی نقیب کی طرح للکاریں۔ کچھ میں نے گھسیٹا کچھ بھائی صاحب نے ٹھیلا۔ ...

مزید پڑھیے

امربیل

بڑی ممانی کا کفن بھی میلا نہیں ہواتھا کہ سارے خاندان کو شجاعت ماموں کی دوسری شادی کی فکر ڈسنے لگی۔ اٹھتے بیٹھتے دلہن تلاش کی جانے لگی۔ جب کبھی کھانے پینے سے نمٹ کر بیویاں بیٹیوں کی بری یا بیٹیوں کا جہیز ٹانکنے بیٹھتیں تو ماموں کے لیے دلہن تجویز کی جانے لگتی۔ ’’ارے اپنی کنیز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6058 سے 6203