قومی زبان

ہیرا پھول

’’پتہ نہیں تمہیں کیوں یاد نہیں رہتا کہ جب میں شہ کہوں تو اس کا مطلب ہے تمہارا بادشاہ زد میں ہے اور تمہیں۔۔۔ اس کی فکر کرنا چاہیے۔‘‘ میں کیا کروں اگنی دامجھے یاد ہی نہیں رہتا۔ مجھے یہ ہارنے جیتنے کا کھیل بکواس لگتا ہے۔ میرا بادشاہ اگر زد میں آگیا ہے تو تم جیت گئیں۔ اب بساط ...

مزید پڑھیے

شیری

مہر کا تار اماں کے نام آیا، ’’شیری کو برٹش ایرویز کی فلائٹ 32 سے لے لیجیے گا!‘‘ سخت غصہ آیا، میں نے اسے لکھا تھا، تم شیری کو یہاں کیوں بھجوا رہی ہو۔ اماں اپنا خیال تو ڈھنگ سے رکھ نہیں سکتیں۔ اس کا کیا کریں گی۔ تمیز سلیقے کا کوئی نوکر ان دنوں ملنا مشکل ہے اور جو ہیں وہ بھی بہتر ...

مزید پڑھیے

اکیلا پھول

دریا کے ساتھ ساتھ چلتی یہ سڑک پہاڑوں کے دامن سے گزرتی اندھیرے میں ڈوبتی ہوئی لگتی ہے۔ دن کی روشنی بادلوں کی لالی میں بدل گئی ہے اور پانی میں گھلی سرخی شام کو لہو رنگ بنادیتی ہے۔ لہریں اور آسمان کا رنگ اور مغرب کی طرف اکیلے تارے کی چمک ایک بے نام اداسی کے رشتےمیں بندھے ہیں۔ ...

مزید پڑھیے

اگنی دا

کرنل مرزا کا ہیلی کاپٹر گوپے کے سامنے پیلی اور تپش سے سیاہ پڑی گھاس پر سے ابھی اڑا تھا۔ ٹھاکر تیج سنگھ کی تلاش میں صحرا کے اوپر لمبی اور نیچی پرواز کے لیے انہوں نے پروگرام کے مطابق اپنی دوربینیں اور بھری ہوئی بندوقیں، گولیوں کے راؤنڈ بھی ساتھ لیے تھے۔ ہم کئی دنوں سے اس ٹوبے کو ...

مزید پڑھیے

چکر

مستی چھائی ہوئی تھی اور خوشی کا عالم یہ تھا کہ نیند کے ساتھ میرا رشتہ بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ بار بار بند آنکھیں کھل کر اصرار کرتیں کہ بستر سے اٹھ کر میں اس ای میل (E-mail) کو پھر سے پڑھوں جو شام کو دہلی سے آیا تھا اور جسے میں کئی بار پہلے بھی پڑھ چکا تھا۔ لیکن دل تھا کہ کسی طور چین لینے کے ...

مزید پڑھیے

اپنے مرنے کا دکھ

یار صادق! بڑے افسوس کے ساتھ تمہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ تمہارا انتقال پرملال ہوچکا ہے۔۔۔ فون پر صادق کادوست منیر کہہ رہا تھا۔ ’’کیا۔۔۔؟ تم کیا کہہ رہے ہو منیر۔۔۔‘‘ صادق جھنجھلاگیا۔ یہ شخص ہمیشہ یوں ہی فون پر مذاق کرتا ہے۔ ’’یہ کہہ رہا ہوں کہ تمہارے گھر سے ٹیلی گرام آیا ہے۔ ...

مزید پڑھیے

جوائے

جوائے مقناطیس کا ایسا ٹکڑا تھا جس پر گھر کے بکھرے ہوئے سب ذرّے چمٹ جاتے تھے۔ ’’بھوں۔۔۔ بھوں۔۔۔ بھوں۔“ اس گھر میں صبح پر یقین جوائے کی آواز سے آتا ہے۔ میرا گھر جہاں سب ایک دوسرے سے منہ پھیر کر جی رہے تھے، ایک دوسرے کا جی جلا کر اپنا جی خوش کرتے تھے، باہر ملنے والی ساری ...

مزید پڑھیے

بات پھولوں کی

’’دیا سلائی جب چراغ روشن کر دیتی ہے تو اسے پھینک دیتے ہیں۔‘‘ ’’پھول محل‘‘ کی گدی پر بیٹھے سوگندھی لال مجھے اپنے تجربے کی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔ ’’اپنی باتوں میں پھولوں کے ہاروں میں اتنے چٹکلے لطیفے ٹانکتے جاؤ کہ سا لا گاہک اس میں الجھتا ہی چلا جائے۔ اور پھر ہار کے منھ ...

مزید پڑھیے

موم کی مریم

آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کھوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبورا مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا ہے۔ میں نے کبھی تمہارے سامنے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

پتھر کا شہزادہ

آئیے۔۔۔ آئیے میڈم جی۔۔۔ چھوٹے بابا! آپ نے پورے شہر کی سیر کر لی! مگر اس میوزیم کو دیکھے بغیر کینڈا واپس مت جائیے۔ شام ہو گئی ہے؟ اجی میڈم! شام تو روز ہی ہوا کرتی ہے۔ روز مشرق بڑی بھاگ دوڑ کر کے سورج کو دنیا کی طرف گھسیٹ کر لاتا ہے۔ اور روز مغرب اسے اندھیرے میں ڈبو دیتا ہے۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6055 سے 6203