قدموں کا نوحہ گر
’’اور اب میرا کتا اپنے منہ میں دبائے لیے چلا آرہا ہے میں جنہیں پھینک آیا تھا ایک گندی نالی میں مجھے معلوم ہے کہ وہ انہیں ڈال دے گا میرے قدموں میں۔‘‘ (بہت پہلے کہی گئی ایک نظم سے) (۱) اب جب کہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونےکے قریب ہوں اور گھورے کے اس ڈھیر پر پڑے پڑے ایک بھیانک بدبو میں بدل ...