قومی زبان

قدموں کا نوحہ گر

’’اور اب میرا کتا اپنے منہ میں دبائے لیے چلا آرہا ہے میں جنہیں پھینک آیا تھا ایک گندی نالی میں مجھے معلوم ہے کہ وہ انہیں ڈال دے گا میرے قدموں میں۔‘‘ (بہت پہلے کہی گئی ایک نظم سے) (۱) اب جب کہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونےکے قریب ہوں اور گھورے کے اس ڈھیر پر پڑے پڑے ایک بھیانک بدبو میں بدل ...

مزید پڑھیے

تفریح کی ایک دوپہر

’’دکھ نے میرے چہرے پر ایک نقاب ڈال دی ہے۔‘‘ ’’دنیا سے ایک جیوکم ہوجاتا ہے۔‘‘ ’’آسمان میں ایک فرشتہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ (فرنانڈو پیسوا) (۱) یہ مئی کی دوپہر ہے۔ دو بج رہے ہیں اور لو بھی چلنا شروع ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری کہانی سننے کے لیے یہی وقت بہترین ہے۔ میں جو کہانی ...

مزید پڑھیے

برے موسم میں

لالٹین کی روشنی مدھم ہونے لگی۔ اس کا تیل ختم ہورہا تھا۔ شام ہوئے دیر ہوچکی تھی۔ ستمبر کی اداس اور ابر آلود شام۔ ستمبر کی ہر شام اپنے پیچھے گزری ہوئی تمام بارشوں کا بوجھ اٹھائے افسردہ اور تھکی تھکی سی بھٹکا کرتی ہے اور ستمبر کاہر دن آسمان پر سست روی سے بلند ہوتے ہوئے سفیدبادلوں ...

مزید پڑھیے

زندوں کے لیے ایک تعزیت نامہ

ہم ایک سانپ بنانا چاہتے تھے۔ یا وہ ایک نقطہ تھا جو سانپ ہوجانا چاہتا تھا مگر راستے میں اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اپنی سمت بدل دی۔ اب وہ کچھ اور ہوگیا ہے۔ اپنے ادھورے پن میں معلق ،ہوا میں اِدھر اُدھر ڈولتا ہوا (کلیشمے) پیٹ میں کسی طوفان کی طرح لگاتار بڑھتے ہوئے تیز درد سے حواس ...

مزید پڑھیے

آخری دعوت

میں جو پہاڑیوں سے نیچے لاشیں لایا ہوں، تمہیں بتا سکتا ہوں کہ دنیا رحم سے خالی ہے اور سنو کہ اگر خدا ہی رحم سے خالی ہو تو دنیامیں بھی رحم نہیں ہوسکتا۔ یہودا امی خائی سب سے پہلے تو مجھے یہ اجازت دیں کہ میں آپ کو بتاسکوں کہ اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں اور اگر دنیا ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

’’حضور والا! آپ نے میرے استعفیٰ پیش کرنے کی وجہ دریافت کی ہے۔ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو یہی کرتا۔ ایک ملازم چوبیس سال تک شب و روز نہایت تندہی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہو۔ اس کی یوں اچانک ملازمت سےعلیحدہ ہونے کی خواہش! مگر فی الحال میں صرف پریشانی خاطر ...

مزید پڑھیے

گوالن

ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ اس کے راج میں چاروں کھونٹ امن و امان، کوئی مسئلہ نہ مشکل۔ کوئی دشمن نہ حریف، مانو شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ پس بادشاہ کا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزرتا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک روز بادشاہ وزیر با تدبیر کے ساتھ شکار کو ایسے نکلے ...

مزید پڑھیے

مصروف عورت

میں ایک مصروف عورت ہوں! اب میں آپ سے درخواست کروں گی کہ یہ لفظ (عورت) قوسین میں کردیجیے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے صرف ایک مصروف وجود سمجھا جائے۔ چلیے اصولی طور پر نہیں تو صرف چند لمحوں کے لیے۔ ضرورتاً ۔ عاریتاً۔ صرف اس کہانی کے لیے۔ تو میں ایک مصروف ہوں۔ یہ مجھے بار بار اس لیے ...

مزید پڑھیے

زوال پسند عورت

آج مکھی کے گھر ماتم ہوگیا۔ سوگواروں کا ہجوم چلا آتا ہے۔ کسی نے کہیں سے خبر پائی، کسی نےکسی مقام پہ سنا اور کھنچا چلا آیا۔ اب ایک نقطہ ہے اور اس کے گرد ایک سیاہ ہجوم۔ ایک دائرہ ایک حصار کیا ہوا۔ کس طرح ہوا۔ اچھا اسی طرح ہونا تھا۔ ایک مسلسل بھن بھن بھن۔ وہ ایک جانب، ساکت بیٹھی ...

مزید پڑھیے

بایاں ہاتھ

جناب والا! میں سچ کہوں گی۔ بالکل سچ۔ پورا سچ۔ اور کچھ نہیں مگر سچ، گو کہ یہ سب کچھ کہتے ہوئے بھی میں نہیں جانتی کہ سچ کیا ہے۔ یہ تو ایک ایسی شبیہ ہے جو کوئی ایک دیکھے تو سیاہ بالکل سیاہ نظر آتی ہے۔ کوئی دوسرا دیکھے تو روشن چمکتی دھوپ ایسی روشن، تو کیا یہ کوئی آنکھ کا نقص ہے۔ دونوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6050 سے 6203