قومی زبان

کہانی اور کرچیاں

واصف تو بس مجھے اپنی نئی کہانی سنانے آیا کرتا تھا۔ مگر اب کے ملا تویوں کہ اس کے ہاتھ میں کسی نئی کہانی کا مسودہ نہیں تھا۔ کہانی لکھ چکنے کے بعد‘ اس کے چہرے پر جو آسودگی ہوتی تھی‘ وہ بھی نہ تھی۔ وہ آیا اور چپ چاپ میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے اسے چھیڑتے ہوے کیا: ’’لگتا ہے کہانی ازبر ...

مزید پڑھیے

آدمی کا بکھراؤ

سی سی یو میں کامران سرور کو کئی گھنٹے قبل لایا گیا تھا مگر اَبھی تک اُس کے دِل کی اُکھڑی ہوئی دھڑکنیں واپس اَپنے معمول پر بیٹھ نہ پائی تھیں۔ وہ اَپنے حواس میں نہیں تھا تاہم ڈاکٹر قدرے مطمئن ہو کر یا پھر اُکتا کر دوسرے مریضوں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کے ایک طرف ہو جانے کے ...

مزید پڑھیے

کفن کہانی

ہاں میری معصوم بچی! میں اپنے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ کہانی اس کا کفن نہ بن سکی ‘ تو تمہارا کفن ضرور بنے۔ اور اب جب کہ تم زندگی کی سانسیں ہار چکی ہو تو میں تمہاری نعش کے سرہانے کا غذ تھامے اس کہانی کو لفظ دینے کا دکھ سہہ رہا ہوں۔ جب وہ آخری سانسیں لے رہی تھی تو کہانی لکھنے کی ...

مزید پڑھیے

پارہ دوز

(تین پارچے :ایک کہانی) پہلا پارچہ اس روز تو میری آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں۔ بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوں نہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ نہ ہو۔مگر اس بار ایسا نہ ہوا تھا ۔ دونوں کنپٹیوں کے ...

مزید پڑھیے

آخری صفحہ کی تحریر

جب پہلا خون ہواتھا تو اس نے لہو کا ذائقہ چکھا تھا؛ بہت کڑوا کسیلا تھا۔ سارا محلہ صحن میں امنڈ آیا تھا ۔ نعش کو کندھوں پر اٹھا کر سارے شہر میں پھرایا گیا تھا۔ جب نعش کی خوب نمائش ہو چکی تو چیرویں قبر کھودی گئی ۔ سفید کفن میں لپیٹ کر نعش کو قبر کے عین درمیان لٹا دیا گیا ۔ پھر پتھروں ...

مزید پڑھیے

بدمعاش

ماں نے میرانام بدرالدین رکھاتھاجو بعدمیں پیارسے بگڑکربدرو ہوگیا۔ویسے میری ماں کے پیاراوربگاڑمیں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔اس کی زندگی میں دو شادیاں اوربے شمارمعاشقے موجودہیں جنہوں نے مجھے ہمیشہ متاثرکیے رکھا۔پہلی شادی اس نے گھرسے بھاگ کرکی اورتین مہینے بعدطلاق لے کرواپس ...

مزید پڑھیے

جادو گرنی

جس عمر میں لڑکیاں گڑیوں سے کھیلا کرتی ہیں وہ مردوں سے کھیلتی تھی۔ اس سے میری پہلی ملاقات چندا کے کوٹھے پر ہوئی تھی۔ میں نے آج تک اس جیسی باکمال لڑکی نہیں دیکھی، اگر وہ مغلیہ دور میں پیدا ہوتی تو یقیناًاکبر کے دربار کا دسواں رتن ہوتی۔ ان دنوں باراز حسن میں بیٹھا یہ رتن خوب اپنے ...

مزید پڑھیے

ایک تھی جولی

شہر میں سرکس لگ چکا تھا، رنگ برنگی کرسیاں پنڈال کے چاروں طرف سجی تھیں۔ کچھ تماشائی سرکس کے اندر جالیوں سے چمٹے ہوئے رِنگ میں موجود لوگوں کو پریکٹس کرتے دیکھ رہے تھے ۔ پنڈال میں ہنگامہ مچا تھا اور مائک والا بابو، بار بار مجمعے کو کرسیوں پر بیٹھنے کے لیے کہتا۔اتنے میں بڑے بڑے ...

مزید پڑھیے

محدب شیشہ

زکوۃ کا مہینہ تھا۔ قصبے کی مسجد میں مولوی صاحب جمعہ کاوعظ کررہے تھے۔ ’’یتیم، مسکین اور بیوائیں عرش کا سہارا ہیں۔ ان کے سر پر ہاتھ دھرو۔ اپنی کمائی میں سے ان کو حصہ دو۔۔۔‘‘ سامنے نمازیوں کی قطاریں خاموشی میں غرق تھیں۔ کچھ دیوار یا کھمبے کے سہارے اونگھتے ہوئے، کچھ پنکھے کی ...

مزید پڑھیے

گورکن

’’یامولا! کسی کو بے موت ہی مارڈال۔‘‘ اللہ بخش نے منہ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔ اور لمبی سیدھی سڑک کو مایوسی سے دیکھنے لگا۔ جس پر کوئی آدمی نظر نہ آتا۔ دور بس سٹاپ پر دو چار آدمی کھڑے تھے۔ کھمبے کے نیچے پان سگریٹ والا اکڑوں بیٹھا تھا۔ لیکن اس سے پچھلے موڑ سے کوئی سائیکل سوار نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6027 سے 6203