قومی زبان

ایک ہاری ہوئی کہانی

ابھی کچھ دن پہلے روزنامہ''ترنگ'' کے ادبی ایڈیشن میں ایک سکہ بند نقاد نے میرے تازہ ترین ناول ''محبت کے سات رنگ '' کو بازاری لٹریچر قرار دیتے ہوئے مجھے ادبی کنوئیں کےاس مینڈک سے تشبیہہ دی ہے جو اگلے سو سال بھی پھدکتا رہے تو شاعرانہ لفاظی اور غیر حقیقی موضوعات کی گرفت سے دامن نہیں ...

مزید پڑھیے

پہلی محبت کی آخری کہانی

(۱) دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ، کتنی ہی کہانیاں سنتا ۔ کبھی دین محمد لکڑ ہارے کا قصہ جسے مقدس درخت کاٹنے کی پاداش میں بندر بنا دیا جاتا ہے، کبھی خدا بخش کسان کی داستان جسے عمر بھر کی محنت اور سچائی کے عوض سونے کے سکوں سے بھری تھیلی ملتی ہے تو کبھی اسلم بِڈے کی کہانی جس کا قد بہت ...

مزید پڑھیے

درد کب ٹھہرے گا!

آج تمہارا خط آیا ہے! یونیورسٹی سے آتے ہی سامنے میز پر پڑے ہوئے ہلکے نیلے رنگ کے لفافے کے پتے کی خوبصورت تحریر میں میری نظریں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ یہ تحریر جانی پہچانی سی معلوم ہورہی ہے۔میری نگاہیں اُن پیاری پیاری تحریروں کو چومنے لگی ہیں اور تم اِن کے درمیان سیاہ بادل کے پیچھے سے ...

مزید پڑھیے

یہ نہ تھی ہماری قسمت

اور میری نظریں فرحتؔ پر جم سی گئی ہیں۔ یادوں کے دیے جگمگا اُٹھے ہیں، ذہن کے پردے پر ماضی کی تصویریں اُجاگر ہوگئی ہیں اور حال نے مجھے آج سے پانچ سال پیچھے ڈھکیل دیا ہے کلاس میں پہنچتے ہی کریم کے چاروں طرف طلبا کا ہجوم دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ آج ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے کیوں کہ وہ ...

مزید پڑھیے

ڈائری ۸۳ء

پہلا دن، فقیر آتا ہے، صدا دیتا ہے، چلاجاتا ہے، پتہ نہیں کیا صدا دیتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کہاں چلا جاتا ہے لیکن فقیر ہے اور صدا دیتا ہے۔ جمعرات ہو تو دس پیسے فی فقیر کے حساب سے اپنے رزق حلال سے نکالتا ہوں۔ محتاجوں، بیواؤں، یتیموں اور فقیروں کو خیرات دیتا ہوں۔ کر بھلا سو ہو بھلا۔ ...

مزید پڑھیے

آکٹوپس

اب اسے اپنا ہر قدم اکھاڑنا پڑ رہا تھا جیسے وہ کیچڑ میں بھاگ رہا ہو۔ سپورٹس شوز میں پیک شدہ پاؤں وزنی ہو رہے تھے۔ بدن آگے نکلتا مگر پاؤں گھسٹتے پیچھے رہ جاتے، دندان سازکے شوکیس میں رکھی بتیسی بھنچی ہوئی، دماغ کے خلیوں کو ایس۔ او۔ ایس بھیجا ہوا۔۔۔ صرف چند قدم اور۔۔۔ اذیت کے چند ...

مزید پڑھیے

پریم

اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑجانا کیسا ہوتا ہے؟ انسان دوسروں کو تو نہیں چھوڑتا کہ وہ موجود رہتے ہیں، بیدار ہوتے ہیں، سوتے ہیں، کھاتے پیتے اور ہنستے بھی ہیں۔۔۔ وہ اپنے آپ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو، اپنی آنکھوں کو، پیاس اور بھوک کو، جاگنے اور مسکرانے کو بھی۔ جس لمحے وہ ...

مزید پڑھیے

ذات کا قتل

انتونیو نے مانتیلا کی بوتل اٹھا کر اپنے گرم ماتھے کے ساتھ لگا دی۔ چاند کی کرنیں بوتل میں باقی ماندہ شراب کے قطروں میں جھلملائیں اور منعکس ہو کر اس کی کالی بھور مخمور آنکھوں میں اترتی چلی گئیں۔ ’’ویوا۔۔۔‘‘ اس کی بھرائی ہوئی آواز بل رنگ کی ہزاروں خالی نشستوں سے ٹکرا کر گونجی ...

مزید پڑھیے

بادشاہ

اور جب وہیل کا جثہ آخری مرتبہ سطح پر ابھرتا ہے تو ماہی گیر جان جاتے ہیں کہ وہ اب کبھی روپوش نہ ہو سکے گی۔ وہ ختم ہو چکی ہے اور وہ بوڑھی کشتی سے ٹیک لگا کر خون آلود ہتھیلیوں کو اطمینان سے پونچھتے ہیں اور اس کے سرخی سے لتھڑے سفید دھڑ پر ’’ہم جیت گئے‘‘ کی نظریں گاڑے سمندر میں سفر کا ...

مزید پڑھیے

آدھی رات کا سورج

’’برائے فروخت۔ اعلیٰ پیڈگری کے السیشین پلے۔ خاصے پلے ہوئے۔ معزز گھرانے میں پروردہ۔ صرف کتوں سے بے پناہ پیار کرنے والے باذوق حضرات رجوع فرمائیں۔ قیمت پانچ سو روپے فی پلا۔ فون۔۔۔‘‘ ’’بہت خوب۔۔۔‘‘ میں نے جماہی لیتے ہوئے کروٹ بدلی۔ میری بیوی ابھی تک لحاف میں منہ ڈھانپے سو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5997 سے 6203