قومی زبان

ایک مکالمہ

الف : گرمیوں کا مہینہ جارہا ہے۔ ہم ایک قدم اور قبر کی طرف بڑھا چکے ہیں۔ دوپہر کو بگولے اڑتے ہیں۔ غریبوں کے محلوں میں لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں۔ ب : سنا ہے بڑی سخت وبا پھیلی ہے۔ الف : ہاں۔ وبا پھیلی ہے اور لوگ مرتے ہیں۔ اگر نہ مریں تو دنیا کی آبادی اور بڑھ جائے اور مزید گڑ ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ

ہاؤ۔۔۔ ہوّہ۔۔۔ ہلو لیو ٹیننٹ۔۔۔ اہم۔۔۔ ٹٹ ٹٹ۔۔۔ فلکس۔۔۔ یپ۔۔۔ مے فیئر۔۔۔ یاہ۔۔۔ او کے۔۔۔ ٹیڈل اووسویٹی پائی۔۔۔ چیریوسیم۔۔۔ اور دوسرے لمحے ریٹا میری بہن نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ جیسے آپ ایک بار پلک جھپک کر کہیں ’’جیک رو بنسن‘‘ میری آٹھ سلنڈرز والی موٹر پانی کے تیز ...

مزید پڑھیے

ستاروں سے آگے

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت شروع کردیا۔ وہ بہت دیر سے وہی ایک ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوب صورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بےزار ہوچکی تھی کہ اسے خوف ہوچلا تھا کہ کہیں وہ سچ مچ اس خواہ مخواہ کی ...

مزید پڑھیے

جہاں کارواں ٹھہرا تھا

اس سنسان اکیلی روش پر نرگس کی پتیوں کا سایہ جھک گیا۔ بیکراں رات کی خاموشی میں چھوٹے چھوٹے خداؤں کی سرگوشیاں منڈلا رہی تھیں۔ پیانو آہستہ آہستہ بجتا رہا اور اسے ایسا لگا جیسے ساری دنیا، ساری کائنات ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے اور اس وسیع خلا میں صرف اس کا خیال، اس کی یاد ، اس ...

مزید پڑھیے

قربانی

انسان کی حیثیت کا سب سے زیادہ اثر غالباً اس کے نام پر پڑتا ہے، منگرو ٹھاکر جب سے کانسٹبل ہوگئے ہیں،ان کا نام منگل سنگھ ہوگیا ہے۔ اب انھیں کوئی منگرو کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ کلو اہیر نے جب سے تھانہ دار صاحب سے دوستی کی ہے اور گاؤں کا مکھیا ہوگیا ہے۔ اس کا نام کالکا دین ہوگیا ...

مزید پڑھیے

لاٹری

جلدی سے مالدار بن جانے کی ہوس کسے نہیں ہوتی۔ ان دنوں جب فرنچ لاٹری کے ٹکٹ آئے تو میرے عزیز دوست بکرم سنگھ کے والد، چچا، بھائی، ماں سبھی نے ایک ایک ٹکٹ خریدلیا۔ کون جانے کس کی تقدیر زورکرے، روپے رہیں گے تو گھرہی میں، کسی کام کے نام آئیں۔ مجھے بھی اپنی تقدیر آزمانے کی سوجھی، ...

مزید پڑھیے

زیور کا ڈبہ

بی۔ اے پاس کرنے کے بعد چندر پرکاش کو ایک ٹیوشن کرنے کے سوا کچھ نہ سوجھا۔ ان کی ماں پہلے ہی مر چکی تھی۔ اسی سال والد بھی چل بسے۔ اور پرکاش زندگی کے جو شیریں خواب دیکھا کرتا تھا، وہ مٹی میں مل گئے۔ والد اعلٰی عہدے پر تھے۔ ان کی وساطت سے چندر پرکاش کوئی اچھی جگہ ملنے کی پوری امید تھی، ...

مزید پڑھیے

اماوس کی رات

دیوالی کی شام تھی۔ سری نگر کے گھروں اورکھنڈروں کے بھی نصیب جاگ گئے تھے۔ گاؤں کے لڑکے لڑکیاں ہنستے کھیلتے۔ چمکتی ہوئی تھالیوں میں چراغ لئے ہوئے مندروں کوجاتے تھے۔ چراغوں سے زیادہ ان کے چہرے روشن تھے۔ ہردرودیوار روشنی سے جگمگارہاتھا۔ صرف پنڈت دیودت کا ست منزلہ محل تاریکی میں ...

مزید پڑھیے

سمر یاترا

آج صبح ہی سے گاؤں میں ہل چل مچی ہوئی تھی۔ کچی جھونپڑیاں ہنستی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ آج ستیہ گرہ کرنے والوں کا جتھا گاؤں میں آئے گا۔ کودئی چودھری کے دروازے پر شامیانہ لگا ہوا ہے۔ آٹا، گھی، ترکاری، دودھ اور دہی جمع کیا جارہا ہے۔ سب کے چہرے پر امنگ ہے، حوصلہ ہے، آنند ہے۔ وہیں ...

مزید پڑھیے

اکسیر

بیوہ ہوجانے کے بعد بوٹی کے مزاج میں کچھ تلخی آگئی تھی جب خانہ داری کی پریشانیوں سے بہت جی جلتا تو اپنے جنت نصیب کو صلواتیں سناتی، ’’آپ توسدھار گئے میرے لیے یہ سارا جنجال چھوڑ گئے۔‘‘ جب اتنی جلدی جاناتھا تو شادی نہ جانے کس لیے کی تھی ’’گھر میں بھونی بھنگ نہ تھی چلے تھے شادی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5979 سے 6203