قومی زبان

کارمن

رات کے گیارہ بجے ٹیکسی شہر کی خاموش سڑکوں پر سے گزرتی ایک پرانی وضع کے پھاٹک کے سامنے جاکر رکی۔ ڈرائیور نے دروازہ کھول کر بڑے یقین کے ساتھ میرا سوٹ کیس اتار کر فٹ پاتھ پر رکھ دیا اور پیسوں کے لیے ہاتھ پھیلائے تو مجھے ذرا عجیب سا لگا۔ ’’یہی جگہ ہے؟‘‘ میں نے شبہ سے پوچھا۔ ’’جی ...

مزید پڑھیے

لکڑ بگّے کی ہنسی

ہمالیہ اور شوالک کی درمیانی وادیاں ’ڈون‘ کہلاتی ہیں (جن میں سے ایک دہرہ دون ہے) سوا سو مربع میل پر پھیلا ہوا کوربٹ نیشنل پارک بھی ضلع نینی تال کی ایک ڈون میں واقع ہے۔ رام گنگا پہاڑوں سے اتر کر کوربٹ نیشنل پارک میں داخل ہوتی ہے۔ اس کے ایک کنارے پر پہاڑی سلسلہ ہے۔ دوسرے پر سال کا ...

مزید پڑھیے

بابا رنگوں والا

وہ ایک خوبصورات شھرتھا رنگوں تتلیوں جگنووُں سے بھرا ہوا وہاں خونصورات پھول تھے اور اِن کی دلفریب خوشبو سے ماحول معطر رہتا تھا۔ عبدُاللہ کو یاد ہے۔ وہ بہت چھوٹا تھا رنگوں اور تتلیوں کے اسی شہر میں رہتا تھا نام اور جگہ تو اسے یاد نہں تھی۔ مگر آج بڑھا پے میں پہنچ کربھی اسے وہ دور ...

مزید پڑھیے

یاد کا بوڑھا شجر

'ابا میاں کہاں ہیں؟'' صبا نے آہستگی سے پوچھا تھا کیونکہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔ آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئ دنوں سے شدید بیمار ہیں ۔ڈاکڑ نے انھیں مکمل بیڈ ریسٹ بتایا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سُنتے ہی نہیں !۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ...

مزید پڑھیے

لکیریں

اجواد اپنے کولیگ مبشرسّیدکے ساتھ باتیں کرتا ہوا وہاں سے گُزر رہا تھا۔ اجواد کا تعلق ایک شو آرگنایزر گروپ سے تھا۔ موہنجوڑرو میں انھیں ایک شو آرگنایز کروانا تھا۔ اسی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں سے کھنڈرات میں عجیب میلہ کا سماں تھا۔ تاریخی ورثہ کو خوبصوتی سے اپنے مقصد کے لئے سجایا جا ...

مزید پڑھیے

دستک

’ابھی اور کتنا چلنا ہے امی ۔۔۔ہماری منزل اتنی دُور کیوں ہے؟‘ احمد جب چلتے چلتے تھک کرہانپنے لگا تو اس نے اپنے سے چند قدم آگے چلتی ماں سے پوچھا ۔ ’ابھی سے تھک گئے احمد؟۔۔۔ابھی تو سفر باقی ہے میرے بیٹے!‘ فاطمہ نے اس کا پسینہ پونچھتے اور اس کا سر سہلاتے ہوئے اسے تسلی دی۔ ’نہیں ...

مزید پڑھیے

برف کی قید

تاحدنگاہ سفیدی ہی سفیدی پھیلی ہوئی تھی۔ مگر یہ سفیدی نہ تو چاند کی ٹھنڈی میٹھی روشنی کی وجہ سے تھی اور نہ ہی روشن ،چمکتے دن کی وجہ سے تھی ۔ اس سفیدی کی اصل وجہ وہ سفید رنگ کا لباس تھا ، جو سب لوگوں نے زیب تن کیا ہوا تھا ۔بڑے سے وسیع میدان میں لوگوں کے جُھنڈ جگہ جگہ نظر آرہے ...

مزید پڑھیے

رمزمحبت

اس نے ڈاکٹر مارتھا کے کلینک سے باہر نکل کر ایک نظر ہر طرف بچھی برف کی سفید چادر پر ڈالی اور تیز تیز قدم اٹھاتی سڑک پہ چلتے اجنبی ہجو م کا حصہ بن گئی! پردیس کی فضاؤں میں گھلی اجنبیت اور ان سرد ہواؤں میں لپٹا، وجود کو تھپکتا تنہائی کا دکھ ۔۔۔۔ جب اسے لگا کہ لوگوں کی اجبنیت سے زیادہ ...

مزید پڑھیے

بارش کے اس پار

کن من کن من برستی بوندیں اسے اچھی لگتیں تھیں مگر۔۔۔۔۔! تیز موسلا دھار بارش اسے عجیب سی بے چینی میں مبتلا کر دیتی تھیں ۔ وہ ایک توانامرد تھا ۔ باہمت اور جوان ۔۔! اپنے حوصلوں سے پہاڑ کو مٹی میں بدل دینے والا ۔۔۔! وہ آسمان سے برستے پانی سے ڈرتا نہیں تھا مگر اسے برستا دیکھ کر چونک پڑتا ...

مزید پڑھیے

روح کا سفر

آسما نی پردوں پر ، رائل بلیو لہروں میں ، سفید پتو ں کی باتیں ، جب نیلے بیڈ پہ بچھے ریشمی رائل بلیوبستر کے مو تیا پھو لو ں سے ہوتیں تووہ الما ری کے قریب بچھی آسما نی رگ پہ آ بیٹھتی ، اور بلیو کْشن سے ٹیک لگا کر ان کی چھیر چھاڑ سْنتی اور دیکھتی رہتی۔ یہ سب با ظاہر بے جا ن ہیں ، مگر زندہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5972 سے 6203